BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 April, 2004, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اجمیر شریف کِسےووٹ دےگا؟

اجمیر کی درگاہ
اجمیر شریف میں داخل ہوتے ہی آج بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ برصغیر میں صوفی تحریک کا زمانہ کتنا شاندار رہا ہوگا۔

مذہب، نسل اور بڑے چھوٹے کی تفریق کے بغیر حاضرین کی بھاری تعداد اس روایت کی غماز ہے۔

بیالیس ڈگری درجہ حرارت میں زائرین کی بھاری تعداد ننگے پاوں درگاہ کا طواف کر رہیں ہیں جن میں دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگ شامل ہیں اور جب سے بھارت پاکستان کے مابین تعلقات بہتر ہوئے ہیں پاکستانی زایرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

حال ہی میں بھارت کے نائب وزیرآعظم لال کرشن ایڈوانی نے بھی درگاہ پر حاضری دی تھی جس سے اجمیر شریف کے مسلمانوں کو اگر ایک طرف ضمانت ملی ہے کہ کٹر ہندو رہنما بھی اس درگاہ کے لۓ ’شردھا‘ یعنی احترام رکھتے ہیں تو دوسری طرف ہی ان میں کسی حد تک تذبذب کی کیفیت بھی پیدا ہوئی ہے کہ وہ موجودہ انتخابات میں کس کا ساتھ دیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہاں سے کوئی مسلمان امیدوار کھڑا نہیں کیا لیکن مسلمانوں سے حمایت حاصل کرنے کے لے پوری کوشش کی جا رہی ہے۔

جس کا ایک ثبوت بی جے پی کے رہنماؤں کی درگاہ پر حاضری ہے۔ مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرف آج بھی یہاں منقسم ہیں اور سرکردہ رہنما اپنے مریدوں سمیت کانگریس اور بی جے پی میں بٹ گۓ ہیں۔

درگاہ کی انجمن سید زادگان کے جنرل سیکرٹری ثروت چشتی نے کہا کہ مسلمان ہر دور اور ہر مقام پر منقسم ہیں تو یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے، لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندو تنظیمیں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بجرنگ دل کے ارادے کیا ہیں۔

ثروت چشتی نے کہا کہ مسلمان سوچ سمجھ کر ہی ووٹ دینے کا فیصلہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈوانی بھائی چارے کا پیغام لے کر آئے تھے انکا کوئی انتخابی مشن نہیں تھا۔

درگاہ کمیٹی اور بی جے پی کی ریاستی حکومت کے درمیان آجکل ایک مدرسے کے قیام پر کشیدگی چل رہی ہے۔ ثروت چشتی کہتے ہیں کہ یہاں کے ایک مقامی رہنما کے خیال میں مدرسے کو قائم کرنا دہشت گردی کا اڈہ کھولنے والی بات ہے، حلانکہ سابق کانگریس حکومت نے اس کے لۓ زمین بھی الاٹ کی تھی۔

کانگریس کے امیدوار حبیب الرحمٰان اگرچہ مسلمانوں کے مسائل کو انتخابی جلسوں میں اجاگر کر رہے ہیں مگر مدرسے کے تنازعے کو سامنے لاکر اپنے آپ کو کٹر مسلمان کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتے۔

اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ ہے جو بارہویں صدی میں سیستان سے اس وقت یہاں تشریف لائے جب اس خطے میں مشہور راجپوت بادشاہ پرتھوی راج چوہان کی حکومت تھی۔

ان کے بھائی چارے کے پیغام نے مہاراجہ کی پرجا کو ان کا گرویدہ بنالیا اور ہر اہم فیصلے میں ان کی مرضی شامل کرنا ضروری بن گیا تھا۔

اجمیر کی درگاہ آجکل اِنتخابی سرگرمی کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے اور زائرین کوثواب دارین کے علاوہ انتخابی جنگ کی جھلک بھی حاصل ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد