برصغیر کے عوام کو آپ کا پیغام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ چاہے سرکاری سطح کی بات چیت ہو یا کرکٹ میچ، بدلتے ہوئے ماحول میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری پہلی بار صاف طور نظر آرہی ہے۔ لیکن کیا عام لوگوں کے دل مل رہے ہیں؟ ذرا اپنا دل ٹٹول کردیکھئے، اگر آپ بھارتی ہیں تو آپ پاکستانی عوام کو کیا پیغام دینگے؟ اور اگر آپ پاکستانی ہیں تو بھارتی لوگوں کو کیا پیغام دیجئے گا؟ بی بی سی اردو ڈاٹ کام اور بی بی سی ہندی ڈاٹ کام کے اس مشترکہ فورم میں آپ اپنے پیغام بھیجیں، ہم آپ کے پیغامات ہندی اور اردو میں شائع کرینگے۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں وسیم اختر، مظفر گڑھ: میں انڈینز سے کہنا چاہتا ہوں کہ مستقل اور دیرپا امن اور دوستی لوگوں کی خواہشات کا احترام اور انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔ ہم یورپی یونین جیسا بننے کی بات کرتے ہیں لیکن جب تک ہم اپنے سیاسی تنازعات حل نہیں کریں گے برصغیر میں استحکام ممکن نہیں ہے۔ ورنہ دوستی کی یہ لہر اسی تیزی سے ریت میں خشک ہو جائے گی جیسے یہ چڑھی ہے اور دونوں ممالک کی فوجیں سرحدوں پر ہوگی اور امن پسندوں کے ہاتھ میں صرف نیک خواہشات ہی رہ جائیں گی۔
احمد نواز ، مونٹریال: پاکستان رہتے ہوئے سوچ ذرا اور تھی لیکن جب سے پردیس آئے ہیں، ہم سب مل جل کر رہتے ہیں۔ یہاں بھی سب کا خیال ہے کہ ہم کو دوستوں کی طرح رہنا چاہئے۔ بس یہ سوچ لیں کہ ہم کو لڑا کر فائدہ اور لوگ اٹھا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ اب بس کر دیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ فیصل سلطان، لاہور: میں حیران ہوں کہ ایک طرف تو دوستی کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف اڈوانی اور ان کے ساتھی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور سرحدیں ختم کرنے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ میں اپنے انڈین بھائیوں اور بہنوں سے جو دوستی کے خواہش مند ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا وہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ طارق لودھی، دوبئی: میں اتنا جانتا ہوں کہ ہمیں لڑوانے والے صرف اور صرف سیاستدان ہیں۔ مجھے صدر پرویز مشرف صاحب سے پیار ہے کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان امن کرکے دکھا دیا ہے۔ پاکستان کو ایسے ہی لیڈر کی ضرورت ہے۔ شفیق اعوان، لاہور: دل کو صاف کریں اور اس میں سے سب میل، کالکھ دھو دیں۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: آج ہی میں لاہور میں دو ایسے انڈینز سے ملا ہوں جن کا کہنا تھا کہ ’ہمرے میڈیا نے ہمیں پاکستان کی بہت غلط تصویر دکھائی ہے اور یہ تو بہت مہمان نواز اور کھلے دل کے لوگ ہیں۔ ہمار دل کرتا ہے کہ ہم بار بار پاکستان آئیں اور لاہور جیسا شہر پوری دنیا میں نہیں ہے‘۔ میں نے کہا کہ ہم جیسے بھی ہیں، ہمسائے ہیں اور ہمیں محبت سے رہنا ہوگا کیوں کہ ہم ہمسائے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
مصدق شیخ، لاہور: میرے خیال میں یہی وقت ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کو قبول کریں اور ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنا شروع کریں۔ جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا، پاکستان اور انڈیا کے تعلقات امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات جیسے ہونے چاہئیں۔ ہمیں اپنے کڑوے ماضی کو بھول کر آگے دیکھنا چاہئے جہاں ہمیں غربت، بیماری، جہالت اور معاشی ناانصافیوں کا سامنا ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں کئی مقدس مذہبی مقامات ہیں۔ اگر ہم ان کا تحفظ کرتہ یں تو ہمیں ان کی عزت بھی کرنی چاہئے جو ان کے ماننے والے ہیں۔ علی، لاہور: میں ایک پاکستانی ہوں اور مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ میں بھارتی لوگوں کے لئے ایک پیغام دینا چاہتا ہوں: ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہم انڈینز کے ساتھ اچھے پڑوسی کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں لیکن ہم اپنی سرحد نہیں ختم کرنا چاہتے۔ پاکستان کا اپنا تشخص ہے اور اس کے اپنے رسم و رواج ہیں۔ جتیندر چودھری، کویت: ودیس میں جو بھارتیوں اور پاکستانیوں میں پریم ہوتا ہے اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ دونوں کے مسائل ایک ہوتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہاں پارا بھڑکانے والے سیاستدان نہیں ہوتے۔ کاش ہندوستان اور پاکستان میں بھی ایسا ہوتا۔ خیر، اب حالات بہتر ہورہے ہیں۔۔۔۔ یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے۔ وسیم رفیع، لاہور: کیا ایس انڈیا کمپنی کی حکومت سے پہلے بھی ہندو مسلم فساد ہوا کرتے تھے؟ آرتی یادو، کان پور، اترپردیش: پاکستان کی ترقی یافتہ خواتین سے میں کہنا چاہتی ہوں کہ وہ پاکستانی مردوں سے کٹرپن چھوڑنے کو کہیں۔ ن خان، کینیڈا: ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں یہ کہہ سکتا ہوں ہم نے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اور ہم انڈیا کے لوگوں سے یہی چاہتے ہیں۔ اروِند کمار، پٹنہ، بہار: ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ نفرت اور تشدد سے الگ بھی ایک دنیا ہے جو کافی خوبصورت ہے۔ طاقت ہونی چاہئے اپنے تحفظ کے لئے، نہ کہ کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے۔ تعلیم کی کمی تشدد کو بڑھاوا دیتی ہے۔ سوچئے پاکستان کے بھائیوں آپ کہاں ہیں۔ کاشف، پشاور: ہم امن اور پیار چاہتے ہیں۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ بھارت کے لوگ جب واپس جائیں گے تو وہ یہ پیغام اپنے ملک کے عوام تک نیک نیتی سے پہنچائیں گے۔
رام آسرے یادو، الہٰ آباد، انڈیا: سچ یہی ہے کہ دونوں ملکوں کے عام لوگوں کے دل مل رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے عوام کی جذبات کا قدر کرتے ہوئے کرکٹ اور بات چیت کا ماحول پیدا کیا ہے۔ پاکستانی عوام سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آئیے ہم ایک دنیا کو دکھا دیں کہ بھائی کی طرح ایک ساتھ رہ سکتے ہیں اور ہمیں آپس میں لڑایا نہیں جاسکتا۔ محمد علی، خیرپور سندھ، پاکستان: ہمارے تنازعات چھپن سالوں سے چلتے آرہے ہیں جن میں اکثر و بیشتر شدت پیدا ہوتی رہی ہے۔ مگر ایک خاموش عوامی انقلاب پہلی بار دیکھنے کو آیا ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام آپس میں دوستی کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی کرکٹ کا بہانہ کرکے اور کبھی کچھ اور، یہ پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ عام لوگوں دونوں ملکوں کے جھنڈے ساتھ لہرا رہے تھے۔ نِک، امریکہ: یہ اچھی بات ہے کہ بھارت اور پاکستان ایک ہورہے ہیں اور یہ دونوں حکومتوں کے ذریعے ممکن ہورہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم پھر کوئی جنگ نہیں لڑیں گے۔ عزیز احمد، اورکزئی ایجنسی، پاکستان: ہم ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان دوستی چاہتے ہیں، لیکن ہمارے رہنما لالچی ہیں، وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے مفاد کی خاطر۔ لکی اوجھا، راجستھان: آپ اپنے رہنماؤں کی پرواہ کیے بنا ایک دوسرے سے ملیں۔ دونوں ہی ملکوں کے نیتا خطرناک ہیں کیونکہ وہ بانٹو اور راج کرو کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔ مالون عالم، لندن: یہ سب بکواس ہے۔ میں اس چکر میں نہیں پڑتا ہوں۔ میں تو زر پرست آدمی ہوں جدھر سے دو پیسے کا فائدہ دیکھتا ہوں ادھر ہی جھک جاتا ہوں۔ نِکھل شاہ، پونے، بھارت: میں پاکستان جانا چاہتا ہوں۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں پولیس، یا کسٹم یا سرکاری اہلکاروں کی وجہ سے میرا وقت نقصان نہ ہو۔ میں نے سنا ہے کہ دونوں طرف ایک ہی جیسا حال ہے۔
پرویز بلوچ، بحرین: میں پاکستانی شہری ہوں اور بھارتی عوام کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر ہم دلوں میں نفرت رکھ کر ہاتھ ملائیں تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کے ساتھ ہاتھ ملانا ہے، اور نفرت کو بھولنا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||