سونیا کا وزیراعظم ہونا یقینی ہوگیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس کی اتحادی جماعتوں نے سونیا گاندھی کو اپنا سربراہ منتخب کیا ہے جس کے بعد اب ان کا وزیراعظم ہونا یقینی ہے۔ سونیا گاندھی نے اتوار کو بھی کانگریس کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور مخلوط حکومت کے قیام پر صلاح مشورے کیے۔ اس کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کے اتحاد کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سونیا گاندھی کا نام اتحاد کی قیادت کے لیے ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی نے پیش کیا جس کی تائید شرد پوار اور لالو پرساد یادو نے کی۔ کانگریس کی ایک درجن کے لگ بھگ اتحادی جماعتیں، جن میں لالو پرساد یادیو کی راشٹریہ جنتا دل، رام ولاس پاسون کی لوک جن شکتی، کشمیری رہنما محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، تلنگا راشٹریہ سمتی وغیرہ شامل ہیں اس مشترکہ اجلاس میں شریک تھیں جس میں اس اتحاد کے ڈھانچے اور نام پر بھی غور کیا گیا تاہم کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کم سے کم نکات پر مشتمل ایک متفقہ لالحہ عمل طے کرنے کے علاوہ چند رہنما اپنی جماعتوں کی طرف سے حکومت سازی میں کانگریس کی حمایت کرنے کے بارے میں تحریری بیان یا لیٹر آف سپورٹ بھی دیں گے۔ کانگریس کے کچھ اتحادی پہلے ہی یہ ’لیٹر آف سپورٹ‘ سونیا گاندھی کے حوالے کر چکے ہیں۔ سونیا گاندھی بھارت کے صدر ابوالکلام آزاد سے پیر کو ملاقات میں یہ سارے خطوط نو منتخب پارلیمان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے پیش کریں گی۔ اس دوران کمیونسٹ پارٹیاں ایک مشترکہ اجلاس میں مستقبل کی حکومت میں شامل ہونے کے بارے میں غور و فکر کر رہیں ہیں۔ حالیہ انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیوں نے باسٹھ نشستیں حاصل کی ہیں اور وہ حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ کمیونسٹ پارٹیاں پہلے ہیں سونیا گاندھی کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں تاہم انہوں نے مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ڈی ایم کے نے بھی جو پہلے بی جے پی کی اتحادی رہ چکی ہے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ حکومت سازی میں سونیا گاندھی کی قیادت میں قائم کانگریس کے اس اتحاد کی حمایت کرے گی۔ دریں اثناء پی ایم کے کے سربراہ ڈاکٹر رامادوس نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت کانگریس کے اتحاد کی حکومت سازی میں حمایت کرے گی ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی سونیا گاندھی سے ملاقات کریں گے اور انہیں اپنی حمایت کا یقین دلائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||