سونیا نے ایسا کیوں کیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سونیا گاندھی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ مسترد کرنے کا فیصلہ بھارت کی حالیہ سیاسی تاریخ کے اہم ترین دنوں کا نقطۂ انتہا تھا۔ لیکن انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ انہوں نے منگل کی رات کو اپنی جماعت کے ارکان کو بتایا کہ ’میں کبھی بھی وزیر اعظم نہیں بننا چاہتی تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے اندر کی آواز ہے۔ کئی مہینوں کی ایک طویل انتخابی مہم اور غیر متوقع کامیابی کے جشن کے بعد صرف چند الفاظ۔ لیکن کامیابی کے اس جشن کے ماحول میں بھی ایک لمحہ منفرد ہے۔ جب بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ وزیر اعظم بننا چاہتی ہیں؟‘ تو جواب ملا کہ انہیں سوالوں کے جواب دینے سے روکا گیا تھا۔
اطالوی نژاد سونیا گاندھی کے اس فیصلے سے یہ تنازعہ بہت حد تک ختم ہو جائے گا آیا کوئی دوسرے ملک میں پیدا ہونے والا شخص بھارت کا وزیر اعظم ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سونیا گاندھی کے وزیرِ اعظم بننے کی صورت میں کھلے عام احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بی جے پی کے بہت سے ارکان پارلیمان نے ان کی حلف برداری کی تقریب کے بائیکاٹ کا ارادہ بھی ظاہر یہ بھی کہا گیا ہے کہ سونیا گاندھی کے بچّے پریانکا اور راہول بھی ان کے وزیر اعظم بننے کے حق میں نہیں تھے۔ سونیا گاندھی کی ساس اِندرا گاندھی کو اس وقت قتل گیا تھا جب وہ ملک کی وزیر اعظم تھیں اور ان کے شوہر راجیو گاندھی اس وقت قتل ہوئے جب انتخابی مہم پر تھے۔ سونیا گاندھی کے دونوں بچوں نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا جس سے پتہ چلتا ہو کہ انہوں نے اپنی ماں کا فیصلہ بدلنے کی کوشش کی ہو۔ راہول گاندھی نے ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’بحیثیت رکن پارلیمان کے میں کہوں گا کہ ان کو وزیر اعظم ہونا چاہیے، ایک بیٹے کی حیثیت سے میں ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں‘۔ پریانکا گاندھی نے کہا کہ ’سونیاجی میری ماں ہیں، انہوں نے اپنے اندر کی آواز پر فیصلہ دیا ہے، میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔۔۔جماعت کے ارکان نے ان سے فیصلہ بدلنے کی اپیل کی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ ا س پر غور کریں گی‘۔ تو کیا پھر سونیا گاندھی نے انتخابی مہم میں اس اعتبار کے ساتھ کہ ان کے غیر ملکی تعلق سے فرق نہیں پڑتا اور زندگی کو خطرات کا خوف نکال کر صرف اس لئے حصہ لیا تھا کہ جب بھارت کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ سامنے ہو تو یہ معاملات دوبارہ سر اٹھا لیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ رہنما جوتی باسو نے منگل کو کہا کہ ’یہ ایک ذاتی فیصلہ ہے اور کوئی اس کی مخالفت نہیں کر سکتا‘۔ ابھی گزشتہ ہفتے ہی کانگریس پارٹی کے ارکان نے ان کو پارلیمانی پارٹی کا سربراہ چنا تھا۔ اس وقت ایسا لگا تھا کہ ان کا وزیر اعظم بننا ٹھہر گیا ہے۔ لیکن چند ہی روز میں واضح ہوگیا تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔
لیکن جماعت کے اعلیٰ رہنما منموہن سنگھ نے یہ کہہ کر شک کے بادل کسی حد تک دور کئے کہ سونیا گاندھی منگل کے روز صدر سے ملاقات میں نئی حکومت کے قیام کے بارے میں بات کریں گی۔ لیکن منگل کے روز سونیا گاندھی کی صدر اے پی جے ابو الکلام سے ملاقات کے بعد دوبارہ چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا انہیں حکومت بنانے کے لئے مزید وقت چاہیے۔ لیکن جیسے جیسے دِن گزرتا گیا یہ واضح ہونے لگا کہ صورتحال بدل چکی ہے۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر خبریں آنے لگیں کہ سونیا گاندھی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے انکار کرنے جا رہی ہیں۔ جیسے ہی ان کے فیصلے کا اعلان ہوا ان کی جماعت کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا جس میں ان سے فیصلہ واپس لینے کے لئے کہا گیا۔ کانگریس کے رہنما سلمان خورشید نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کیا کریں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ قبول نہیں کر سکتے کہ ہمیں ایک دم بتایا جائےکہ سونیا گاندھی وزیر اعظم نہیں بن رہی‘۔ کانگریس کے رہنما منی شنکر آئیر نے سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کے بارے میں مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ نسل پرستی کے سوا کچھ نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی کو بھارت کے لوگوں نے منتخب کیا ہے اور انہوں نے کانگریس کو کامیابی دلائی ہے۔ سونیا گاندھی کے فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی کہ وہ اپنی جماعت کو مستقبل میں دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے تنقید سے بچانا چاہتی ہوں۔ اپنے فیصلے کے باوجود ان کا ملکی سیاست میں اہم کردار ہوگا۔ ان کا بیٹا سیاست میں قدم رکھ چکا ہے اور بیٹی کے جلد ہی ایسا کرنے کا امکان ہے، ایسے میں گاندھی خاندان کا سیاسی مستقبل محفوظ نظر آتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||