’فیصلہ میری روح کی آواز ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سونیا گاندھی کی اس تقریر کا متن جس میں انہو ں نےمنگل کے روز دہلی میں کانگریس کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا عہدہ قبول کرنے سے معذوری کا اظہار کیا۔ دوستو، پچھلے چھ سال سے جب سے میں سیاست میں ہوں، میں ایک بات کے بارے میں بہت واضح رہی ہوں اور وہ یہ ہے کہ میرا مقصد وزارتِ عظمیٰ کا حصول نہیں ہے۔ میں نے اس بات کا ماضی میں بھی بارہا اظہار کیا ہے کہ اگر میں اس پوزیشن میں آ جاؤں جس میں میں آج ہوں تو میں اپنی داخلی آواز کو سنوں گی۔ اور اج اسی آواز نے مجھے بتایا ہے کہ میں بہ صد احترام اس عہدے کو قبول کرنے سے انکار کر دوں۔ آپ نے مجھے متفقہ طور پر اپنا رہنما چن کر مجھ پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ یہ آپ کا اعتماد ہی ہے جس کی وجہ سے مجھ پر اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے لئے شدید دباؤ ہے۔ لیکن مجھے اپنے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے جنہوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ہے۔ میرے لئے نہ تو اقتدار کبھی باعثِ کشش رہا ہے اور نہ ہی کسی عہدے کا حصول میرا مطمع نظر رہا ہے۔ میرا مقصد ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ میں اپنی قوم کے غریبوں اور اس کی سیکولر بنیادوں کا دفاع کروں۔یہ وہی مقصد ہے جو اندرا جی اور راجیو کو عزیز تھا۔ اس کا کوئی اور پہلو نہیں ہے۔ اس میں کسی کی کوئی بلیک میلنگ نہیں ہے۔اگر آپ نے اس بات کو غور سے سنا ہے جو کچھ میں نے کہا ہے تو اپ کو محسوس ہو جائے گا کہ یہ میرے اندر کی آواز ہے۔ میرا ضمیر ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||