BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 May, 2004, 19:58 GMT 00:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونیا، عبدالکلام ملاقات منگل کو

صدر جمہوریہ اے پی عبدالکلام
صدر جمہوریہ اے پی عبدالکلام
ہندوستان میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی منگل کی صبح صدر جمہوریہ اے پی عبدالکلام سے ملاقات کر کے مرکز میں نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کریں گی۔

اسی بارے میں سونیا گاندھی کو صدراتی محل سے پیر کے روز ایک خط موصول ہوا جس میں انہیں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں گفت و شنید کے لیے دعوت دی گئی ہے۔

راشٹر پتی بھون سے موصولہ خط میں کہا گیا ہے کہ کانگریس لوک سبھا انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اور اتحاد کے طور پر بھی وہی سب سے بڑا گروپ ہے۔

مزید یہ کہ سونیا گاندھی متفقہ طور پر اتحاد کی لیڈر منتخب کی جا چکی ہیں۔ اس لیے نئی حکومت کے قیام کے سلسلے میں انہیں صدر جمہوریہ سے ملاقات کی دعوت دی جاتی ہے۔

گزشتہ شام نئی دہلی میں یہ افواہ گرم ہوگئی تھی کہ شاید محترمہ گاندھی خود وزراتِ عظمیٰ کی دعوت سے دستبردار ہوکر کسی دوسرے کا نام تجویز کریں گی۔

لیکن بعد میں رات کے تقریباً نو بجے اعلان کیا گیا کہ محترمہ گاندھی خود صدر جمہوریہ اے پی عبدالکلام سے مل کر مرکز میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کریں گی۔

خود مسز گاندھی نے اپنے تمام ارکانِ پارلیمان کو اچانک اپنے گھر بلا لیا تھا۔ بعد میں وہ پارٹی کے رہنماؤں اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ گھنٹوں صلاح مشورے میں مصروف رہیں جس سے اِس طرح کی قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔

لیکن گھنٹوں انتظار کے بعد کانگریس کے مشیر رہنما من موہن سنگھ اور پرنب مکھرجی نے میڈیا کی زبردست بھیڑ کے سامنے اعلان کیا کہ محترمہ گاندھی صدر جمہوریہ سے ملنے کل صبح یعنی اٹھارہ مئی کو جائیں گی۔

پرنب مکھرجی نے اس موقعے پر کہا کہ اب ساری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو چکا ہےاور اب یہ بھی یقینی ہے کہ سونیا گاندھی ہی ملک کی اگلی وزیرِاعظم ہوں گی۔

اس لیے اب کسی کو اِس معاملے میں شک و شبہ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

نئی دہلی میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک بار پارلیمانی پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد مزید کسی بھی جماعتوں کی حمایت مل جانے کے بعد بھی اچانک سونیا گاندھی کی کلوز میٹنگ پر سبھی ارکان پارلیمان کو گھر پر بلانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سونیا نے اچانک کسی بڑے فیصلے کی تیاری کر لی تھی لیکن بعد میں شاید یہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے یقین دہانی اور کانگریس کے رہنماؤں کے کہنے پر اپنا خیال بدل لیا۔

پیر کو کانگریس کے اتحادی جماعتوں اور ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی صدر جمہوریہ کو سونیا گاندھی کی حمایت میں اپنے اپنے خطوط دے دیئے ہیں۔

پانچ سو تیتالیس ارکان والی پارلیمنٹ میں فی الوقت تقریباً سوا تین سو اراکین کی سونیاگاندھی کو حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

اسی دوران بائیں بازو کی جماعتوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ مرکز میں کانگریس کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی حکومت میں شامل نہیں ہوں گی۔

دلی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کے رہنما پرکشن سنگھ سرجیت نے کہا کہ بایاں محاذ کانگریس کی باہر سے حمایت جاری رکھے گا۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر سرجیت نے کہا کہ کچھ بھی ممکن ہے لیکن فی الوقت وہ حکومت میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔

کمیونسٹ پارٹیوں نے کہا ہے کہ ایک مشترکہ ایجنڈے کا لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے جس پر نئی حکومت عمل پیرا ہوگی۔

تـجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے درمیان چونکہ اقتصادی پالیسی پر کافی اختلافات ہیں اس لیے مشترکہ پروگرام میں اتفاق رائے کی کوششیں کی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد