کانگریس کے منشور کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان ميں حز ب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگريس نے وعدہ کيا ہے کہ وہ ا قتدار ميں آنے کے بعد اقتصا دی ترقی کی رفتار کو مزيد تيز کرے گی۔ پارٹی نے پیر کے روز جاری کئے گئے انتخابی منشور ميں ہر برس ملازمت کے تقريباً ايک کروڑ مواقع پيدا کرنے کي بھی بات کی ہے۔ کانگريس کی صدر سونيا گاندھی نے پارٹی کے صدر دفتر میں انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے کہا کہ پارليماني انتخابات محض مختلف جماعتوں کے درميان انتخاب کا معاملہ نہيں ہیں بلکہ يہ دو باہم متضاد نظريات کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگريس اور اس کي اتحادي جماعتیں بی جے پی کو شکست دينے کے لیے پوری طرح متحد ہيں ۔ سونيا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ہندوستان کی ايک متعصبانہ تاريخ لکھنا چاہتی ہے اور مستقبل کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ کانگريس کی صدر نے کہا کہ انتخابی منشور کے چھ بنيادی پہلو ہیں جن میں معاشرتی ہم آہنگی، نو جوانوں کے لیے روزگار، ديہی ترقی، اقتصادی ترقی ،خواتين کی بہبود اور مساوی مواقع شامل ہیں۔ منشور ميں واجپئی حکومت کی کاميابيوں کو سابقہ کانگريس حکومتوں کے ترقياتی منصوبوں سے منسوب کيا گيا اور کہا گيا ہے کہ وزير اعظم نےايودھیا کے تنازعہ اور سيکولرزم، گجرات کے قتل عام، پاکستان سے تعلقات اور مختلف کشمیری تنظیموں سے بات چیت جيسے اہم قومی معاملات میں ابہام اور غیر مستقل مزاجی کا ثبو ت دیا ہے۔ سونیا گاندھی نے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اقتصادی پالیسی ،قومی سلامتی و خاربہ پالیسی اور معاشرتی پالیسی سے متعلق تین دستاویزات جاری کرے گی۔ کانگریس کی صدر نے کہا کہ ان کے بیٹے راہول گاندھی نے انتخاب لڑنے کا فیصلہ خود کیا ہے اور ان کی بیٹی پریانکا گاندھی کو بھی انتخاب لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ خود کرنا پڑے گا۔ اُتر پردیش میں کسی جماعت سے انتخابی مفاہمت نہ ہونے کے بعد کانگریس اب اپنے امیدواروں کی فہرست جلد ہی جاری کرنے والی ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی بھی اپنا انتخابی منشور اسی ہفتے جاری کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||