نئے اندیشوں سے مارکیٹ متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں اس اندیشے کے باعث کہ نئی حکومت کی تشکیل اقتصادی اصلاحات میں تعطل کا سبب بن سکتی ہے، حصص کی قیمتوں میں گیارہ فیصد کمی آ گئی ہے۔ ممبئی سٹاک ایکسچینج میں تجارت کے شروع ہوتے ہی پانچ سو پوائنٹس گر گئے جو تاریخ میں اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب ہندوستان کے حالیہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کی کامیابی کے بعد سونیا گاندھی ملک کی نئی وزیراعظم بننے والی ہیں۔ بھارت میں بائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی ایم) اس ضمن میں پیر کو اپنا فیصلہ کرے گی۔ ممبئی سٹاک ایکسچینج میں تجارت عارضی طور پر بند ہے اور انڈیکس 85 .4516 پوائنٹس پر ہے۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بائیں بازو کی جماعتوں میں اس بات پر اختلاف رائے ہے کہ آیا نئی حکومت کے ساتھ شمولیت اختیار کی جائے یا نہیں۔ بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی کے رہنما اے بی بردھن کا کہنا ہے کہ ’سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں حکومت کے ساتھ شامل ہوئے بغیر اس کا ساتھ دینا چاہئے یا ہمیں حکومت کا حصہ بن جانا چاہئے‘۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے بائیں بازو کی جماعتیں اس بنیاد پر فیصلہ کریں گے کہ کانگریس پارٹی انہیں کیا مراعات دینے کو تیار ہوتی ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان منموہن سنگھ نے بتایا ہے کہ متعدد سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اتوار کی شام سونیا گاندھی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران سونیا ی بحیثیت وزیراعظم حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ توقع ہے کہ سونیا گاندھی اس ہفتے کے آخر میں حلف اٹھائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||