مذاکرات جاری رہیں گے: سونیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ہندوستان کی اگلی حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گی۔ ہندوستان کے چودھویں عام انتخابات میں کانگریس کے کامیابی کے بعد اپنے پہلے ردِ عمل میں انہوں نے کہا کہ ان جماعت شروع سے ہی پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق وزیر اعظم واجپئی کے اقدامات کی حمایت کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ہندوستان میں ایک مضبوط، مستحکم اور سیکولر حکومت کی تشکیل کرے گی۔
انہوں نے واضح طور پر یہ دعویٰ تو نہیں کیا کہ وہ ملک کی وزیر اعظم بن رہی ہیں لیکن اس طرف اشارہ کیا کہ ایسا سو بھی سکتا ہے۔ دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اختتام ہفتہ تک وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے بارے میں فیصلہ کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے نومنتخب ارکان ایک پارلیمانی لیڈر کا انتخاب کریں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہی پارلیمانی لیڈر ملک کا نیا وزیر اعظم ہو گا تو انہیں نے کہا کہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔
کانگریس اور اس کے اتحادی دو سو پندرہ نشستوں پر پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکے ہیں جبکہ ایک مزید نشست پر اس کے حامی امیدوار سبقت حاصل کئے ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بی جے پی اور اس کے اتحادی ایک سو اکیاسی سیٹوں پر پہلے ہی فاتح قرار دیئے جا چکے ہیں جبکہ وہ پانچ مزید نشستوں پر آگے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں سمیت دیگر امیدواروں نے ایک سو چھتیس سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ وہ ایک نشستوں پر آگے ہیں۔ اگر سونیا گاندھی وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گئیں تو وہ نہرو خاندان کی چوتھی رکن ہوں گی جو اس عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ مبصرین کے خیال میں اگر کانگریس بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ آسانی سے 269 ارکان کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اترپریش کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی نے بھی کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو سونیا گاندھی کو تین سو سے زیادہ ارکان کی بھی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||