واجپئی نے استعفیٰ دے دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنی کابینہ کے آخری اجلاس کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق کانگریس اور اس کے اتحادی حکومت سازی کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔
اس سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر ونکیا نائیڈو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت مستعفی ہو جائے گی۔ ’موجودہ انتخابات میں عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اقتدار جھوڑ دیں اور اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ وزیر اعظم واجپئی نے کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے جس کے بعد وہ قصرِ صدارت جائیں گے اور صدر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔‘ دوسری طرف کانگریس رہنما سونیا گاندھی اپنے سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں جلد ہی اہم اعلان کرنے والی ہیں۔ کانگریس کی ترجمان امنبیکا سونی کا کہنا ہے کہ کانگریس رہنما سونیا گاندھی وزیر اعظم کے عہدے کے لئے ان کی پارٹی کی امیدوار اور ہندوستان کی اگلی سربراہ حکومت ہوں گی۔ ’ہر پارٹی کو اپنا رہنما چننے کی حق ہے۔ کوئی اور اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ یہ فیصلہ ہندوستان کے عوام کو کرنا ہوتا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم کون ہو گا۔‘ اطلاعات کے مطابق سونیا گاندھی جلد ہی صدر اے پی جی عبدالکلام سے ملاقات بھی کرنے والی ہیں۔
اگر سونیا گاندھی وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گئی تو وہ نہرو خاندان کی چوتھی رکن ہوں گی جو اس عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ موجودہ انتخاب ایک ایسے مرحلے میں ہوئے ہیں جب ہندوستان کے اقتصادی میدان میں تیزی کا رحجان پائی جاتی تھی لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے والی غریب آبادی جس تک اقتصادی ترقی کے ثمرات نہیں پہنچ سکے وہ بی جے پی کے خلاف ہو گئی۔ مبصرین کے خیال میں اگر کانگریس بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ آسانی سے 269 ارکان کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اترپریش کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ کی سماج وادی پارٹی نے بھی کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو سونیا گاندھی کو تین سو سے زیادہ ارکان کی بھی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||