قیدی: بیوی قبول، بچہ نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی جیل سے رہائی پانے والے بھارتی قیدی محمد عارف کو بیوی تو واپس مل جائے گی لیکن اس کی کوکھ میں موجود کسی شخص کے بچے کو قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔ محمد عارف اور جگسیر سنگھ سیاچن کے علاقے میں پاکستان کی قید میں آ گئے تھے۔ دونوں فوجیوں کو بھارت نے بھگوڑا قرار دے دیا تھا۔ جب پاکستان کی قید سے پانچ سال بعد وہ واپس ہندوستان پچنچا تو اسے پتہ چلا کہ اس بیوی کی دوسری شادی ہو چکی ہے۔ بھارتی فوج کی ڈیبریفنگ کے بعد محمد عارف نے گاؤں کی پنچایت کے ذریعے اپنی بیوی کو واپس کرنے کی کوشش کی۔
پنچائیت نے محمد عارف کے حق میں فیصلہ دیا ہے کیونکہ اس نے بیوی کو طلاق نہیں دی تھی۔ لیکن عارف کے لیے پریشانی ابھی ختم نہیں ہے اس کی بیوی ، گڑیا ، اپنے دوسرے شوہر سے حاملہ ہے ۔ محمد عارف کا کہنا ہے کہ اس کو اپنی بیوی سے پیار ہے اور وہ اس کو واپس لینے پر تیار ہے لیکن اس کو اس کی کوکھ میں بچے سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عارف کے مطابق گڑیا اپنے ہونے والے بچے کو والدین کے پاس چھوڑے گا یا بچے کے والد کے حوالے کر دے۔ گڑیا محمد عارف سے متقق نہیں ہے ۔ اس کا کہنا کہ اگر عارف کو اس سے پیار ہے تواس کو اسے بچے کے ساتھ ہی قبول کرنا پڑے گا۔ بھارتی فوجیوں کو پاکستانی فوج نے بھارت کے کارگل سیکٹر میں گرفتار کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||