مشرف کا جلسہ، کرفیو کا سماں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویزمشرف آج اوکاڑہ میں جلسہ عام سے خطاب کرنے والے ہیں جس کے لیے شہر میں سخت حفاظتی اقدامات کے باعث کرفیو جیسا سماں ہے۔ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے چئیرمین اور وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کی دعوت پر صدر مشرف اوکاڑہ میں آج جلسہ سے خطاب کریں گے۔ جلسہ گاہ شہر سے تقریبا دو کلومیٹر کے فاصلہ پر ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے نیو اسٹیڈیم میں بنائی گئی ہے جہاں دیہاتوں سے ہزاروں لوگوں کو پولیس کی پکڑی ہوئی بسوں اور ویگنوں میں لایا گیا ہے۔ یہ لوگ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ اور حکمران مسلم لیگ کے جھنڈے اٹھائے ہوئےہیں۔ اوکاڑہ شہر میں کرفیو جیسی صورتحال ہے کیونکہ جلسہ گاہ کی طرف جانے والی سڑکیں عام ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہیں اور صرف پیدل افراد کو جلسہ گاہ تک جانے کی اجازت ہے اور وہ بھی اپنے ساتھ موبائل فون نہیں لے جا سکتے۔ جلسہ گاہ میں جانے سے پہلے سیکیورٹی چیک سے گزرنا پڑتا ہے۔ جلسہ گاہ کے اوپر صبح ہی سے ایک ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کررہا ہے۔ پولیس شہر میں گاڑیوں کی سیکیورٹی چیکنگ کررہی ہے اور جگہ جگہ ناکہ لگائے گئے ہیں۔ جلسے کی کوریج کے لیے صرف سرکاری سیکیورٹی پاس رکھنے والے صحافیوں کو جانے کی اجازت ہے تاہم فوٹوگرافی کے لیے صرف سرکاری میڈیا کو اجازت دی گئی ہے۔ پولیس نے دو روز سے اوکاڑہ میں نجی گاڑیوں اور ویگنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی تھی تاکہ انہیں لوگوں کو جلسہ گاہ تک لے جانے کے لیے استعمال کیا جا سکے جس سے مقامی مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ آج صبح اوکاڑہ کے ملٹری فارمز پر نئے قوانین کے خلاف تین برسوں سے احتجاج کرنے والے مزارعین نے سینکڑوں لوگوں پر مشتمل ایک احتجاجی جلوس نکالا اور جلسہ گاہ کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں فارمز پر ہی روک دیا۔ ان مزارعین کا موقف ہے کہ صدر مشرف نے ریفرنڈم کے موقع پر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ مزارعین کو ان فارمز کا ملکیتی حق دے دیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ مزارعوں کے لیے کرایہ داری کے نئے قوانین متعارف کرا دیے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||