ایم ایم اے کا یوم سیاہ اور احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف کے چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ اپنے پاس رکھنے کے خلاف مذہبی جماعتوں کے اتحاد، متحدہ مجلس عمل نے نئے سال کے پہلے دن یوم سیاہ منایا اور ملک کے مختلف شہروں میں جلسے اور جلوس منعقد کئے۔ کراچی میں ایم ایم اے نے لسبیلہ چوک سے جلوس نکالا جو کے سبیل والی مسجد پر پہنچ کر جلسے کی صورت اختیار کر گیا۔ جلوس کے شرکاء کالی پٹیاں باندھے ہوئے تھے اور انہوں نے سیاہ پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ ایم ایم اے کے رہنماؤں نے جلسئے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف نے وردی نہ اتار کر بقول ان کے وعدہ خلافی کی ہے اور ایم ایم اے اس وعدہ خلاف پر اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ کراچی میں نکالے جانے والے اس جلوس میں شرکاء کی تعداد بہت حوصلہ افزا نہیں تھی اور اس میں اے آر ڈی کے بھی کس رہنما نے شرکت نہیں کی۔ ایم ایم اے کی اپیل پر نکالے جانے والے ان جلوس میں پشاور کے علاوہ کوئی جلوس شرکاء کی تعداد کے حوالے سے بہت حوصلہ افزا نہیں تھا۔ صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں ہفتے کو متحدہ مجلس عمل کی کال پر یوم سیاہ منایا گیا۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا احتجاجی جلسہ پشاور میں منقعد کیا گیا۔ موسلا دھار بارش اور سردی کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں سے جلوس چوک شہدا میں اکٹھے ہوئے۔
لوگوں نے سیاہ پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے صدر کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ جلسے سے خطاب میں مقررین نے جن میں سینئر صوبائی وزیر سراج الحق بھی شامل تھے اس احتجاجی تحریک کو صدر کی جانب سے وردی اتارنے تک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے حکومت کے پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کو نکالنے کے فیصلے کی بھی مذمت کی۔ اس موقعے پر سینئر وزیر نے وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کو لیاقت باغ میں اس تنازعہ پر مناظرے کا چیلنج دیا۔ اس احتجاج سے شہر کی مصروف سڑکوں میں ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے عزیزاللہ خان نے کوئٹہ سے اطلاع دی ہے کہ مجلس عمل کے قائدین نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنماؤں کو دعوت دی گئی تھی لیکن کوئی بھی نہیں آیا۔ جامعہ مسجد سے جلوس شروع ہوا اور سرکلر روڈ کندھاری بازار سے ہوتا ہوا منان چوک پہنچا جہاں مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد دو صوبائی وزراء عبدالرحیم بازئی اور در محمد پرکانی کے علاوہ مسلم لیگ نواز کے عطاء اللہ محمد زئی نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنی تقریروں میں صدر جنرل پرویز مشرف کے اس فیصلے کی کہ وہ دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں گے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ وعدہ خلافی ہے اور فیصلہ آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرکزی قیادت کے فیصلے کے مطابق وہ ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ مجلس عمل اس وقت صوبائی حکومت میں شامل ہے اور گزشتہ روز وزیر اعلٰی بلوچستان جام محمد یوسف نے صحافیوں سے کہا تھا کہ مجلس عمل مرکز میں جو کچھ کرے بلوچستان میں کچھ نہیں کرے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آج کے احتجاجی جلسے میں مظاہرین کی تعداد انتہائی کم تھی اور لگتا ایسا ہے کہ مجلس عمل نے اس احتجاجی جلسے کے لیے کوئی باقاعدہ تیاری نہیں کی تھی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار مو جود تھے اور سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ جگہ جگہ پولیس گاڑیاں اور قیدیوں کو لے جانے والے ٹرک کھڑے تھے۔ اہم مقامات پر چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات تھے۔ لاہور سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے عدنان عادل کے مطابق لاہور میں متحدہ مجلس عمل کی رکن مذہبی جماعتوں کےکارکنوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے آرمی چیف رہنے کے خلاف یوم سیاہ منایا لیکن اے آر ڈی کی جماعتوں نے اعلان کے برعکس اس میں شرکت نہیں کی۔ متحدہ مجلس عمل نے پورے ملک کی طرح لاہور میں بھی چار مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جن میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے شرکت کی۔ تاہم ان مظاہروں میں شریک افراد کی تعداد چند درجن سے زیادہ نہ تھی۔پہلا جلسہ ساڑھے تین بجے مسلم مسجد لوہاری گیٹ لاہور کے پاس ہوا جس میں مجلس عمل کے پچاس ساٹھ کارکن جمع ہوئے اور پوسٹر اور جھنڈے اٹھائےایک قطار میں سڑک کے کنارے مسجد کے ساتھ کھڑے رہے۔ یہ مظاہرین مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ بعد جمع ہوئے اور ان کی تعداد اس جگہ پر لگائی گئی پولیس کی تعداد سے زیادہ نہیں تھی۔ سڑک پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی۔ مظاہرین نے سیاہ جھنڈے اور جنرل مشرف کے خلاف کارٹونوں والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے اور یہ مظاہرین جنرل مشرف کا نام لیے ان کے خلاف نعرے لگا رہے تھے جن میں ’جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے غدار ہے‘ شامل تھا۔ چوک یتیم خانہ پر مجلس عمل کے مظاہرہ میں نسبتا زیادہ لوگ شریک ہوئے۔ ان کی تعداد سو ڈیڑھ سو کے لگ بھگ تھی۔ جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے ایک ٹرک پر بنائے گئے اسٹیج پر کھڑے ہوکر مظاہرین سے خطاب کیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایک روز پہلے اعلان کیا تھا کہ احتجاج پر امن رہے گا اور یہ کہ صدر جنرل پرویز مشرف مجلس عمل کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فضل الرحمان نے چند روز پہلے وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات بھی کی تھی۔ اے ار ڈی کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(نواز) نے مجلس عمل کے یوم سیاہ میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا تھا اور اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم کا اس ضمن میں بیان بھی اخباروں میں شائع ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ نکلسن روڈ پر نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی رہائش گاہ پر اے آر ڈی کے احتجاجی جلسے سے خطاب کریں گے تاہم ایسا نہیں ہوا۔ اے آر ڈی کے کارکنوں نے نہ تو مجلس عمل کے مظاہروں میں شرکت کی اور نہ ہی نکلسن روڈ پر اس کا کوئی کارکن موجود تھے۔ البتہ نکلسن روڈ پر پریس فوٹوگرافروں اور رپورٹروں کی تعداد اے آر ڈی کے کارکنوں اور چھوٹی رکن جماعتوں کے قائدین سے زیادہ تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||