وردی کا اسلامی رنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چلیئے صاحب! ایوانِ بالا کی قدر و منزلت میں ایک اضافہ یہ ہوا ہے کہ بحث کے لیے دلائل اب تاریخ اور سیاسیات کی سرحدوں کو عبور کر کے ایمانیات کی حدوں کو چھونے لگے ہیں۔ خدا جانے یہ ماہِ صیام کی برکت ہے یا کسی انعام کی کرامت کہ جمعہ کو سینیٹ کے در و دیوار قرآن و حدیث کے حوالہ جات سے گونجتے رہے۔ اور وہ بھی ثواب کے لیے نہیں بلکہ صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے۔ سینیٹ کے ایک رکن جن کا نامِ نامی عباس کمیلی ہے اور جن کی وابستگی متحدہ قومی موومنٹ سے ہے ان کے دل میں جانے کیا آئی کہ قرآن اور حدیث سے استدلال کرتے ہوئے ’اسلامی‘ کی بجائے ’پرویزی‘ راستوں پر چل پڑے۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے اور وردی کی حمایت میں جو ارشادات فرمائے وہ کچھ یوں ہیں۔ ’پیغمبرِ اسلام اور ان کے خلفاء نے بھی سربراہِ حکومت اور فوج کے سپہ سالار کے دونوں عہدے ایک وقت میں اپنے پاس رکھے تھے لہٰذا صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے پر کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ حزبِ اختلاف قرآن کی کوئی آیت یا کوئی حدیث پیش کرے جس میں سربراہ حکومت اور سپہ سالار کے دو عہدے ایک شخص کے پاس ہونے کی ممانعت ہو۔ وردی مقدس ہے اور اس کی توہین قرآن کی توہین ہے، وردی کی مخالفت جہاد کی مخالفت ہے۔ اور ہر نوجوان کو وردی پہننی چاہئے تاکہ جہاد اور فساد میں فرق رہے۔ نیز یہ کہ پاکستان میں ایسا کون سا سیاستدان ہے جس نے فوجی وردی کا طواف نہیں کیا۔‘ جی چاہتا ہے کہ عباس کمیلی صاحب سے گزارش کی جائے کہ حضور آپ نے ’کلمۂ حق‘ بلند کیا، اچھا کیا۔ لیکن خدا لگتی کہیے کیا پیغمبرِ اسلام، خلفائے راشدین اور جنرل پرویز مشرف کی ’وردی‘ میں کہیں کوئی دُور کی بھی نسبت ہے؟ سرکار! زیادہ اچھا نہ ہوتا کہ بات وردی اور فوج کی ہی رہتی اسلام کی نہیں۔ ایک شخص کے دو عہدے رکھنے کی ممانعت پر آپ کا دلیل طلب کرنے کا تقاضا بھی بجا۔ اعلیٰ حضرت! ممانعت کی دلیل تو ایک طرف، نہ ماننے والے تو واضح احکامات کو نہیں مانتے۔ دیکھ لیجیے حلف توڑنے(خواہ حلف آئین کا ہو) اور قول سے منحرف ہوجانے پر شریعت کا فیصلہ صاف صاف ہے۔ لیکن لوگ نہیں مانتے۔ کبھی نوے دنوں کے گیارہ سال بنا لیتے ہیں کبھی حلیہ اور ہیئت بدلنے کا کہتے ہیں اور پھر انکار کر دیتے ہیں۔ قبلہ! آپ کہتے ہیں کہ وردی مقدس ہے اور اس کی توہین قرآن کی توہین ہے۔ اگر کوئی دشمنِ اسلام، وردی پہن کر اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو کیا اس کے جسم کی وردی بھی مقدس کہلائے گی؟ اور کیا ایسی وردی کی مخالفت قرآن کی مخالفت ہوگی؟ یہ نہ کہیئے گا کہ آپ کی مراد فوج کی وردی سے تھی کیونکہ کافروں کی بھی فوج ہو سکتی ہے جو وردی پہنے ہوئے ہو۔ یہ بھی نہ کہیے گا کہ آپ کی مراد پاکستانی فوجی کے جسم پر سجی وردی تھی اس لیے کہ کئی پاکستانی فوجیوں کے جسم پر وردی ان کے دامن کا داغ بن چکی ہے۔ آپ یہ بھی نہ کہیے گا کہ آپ کسی اور فوجی وردی کی بات کر رہے ہیں اس لیے کہ زیرِ نظر مسئلہ فوج کی رہی سہی شان یعنی کسی عام جوان کے یونیفارم کا نہیں بلکہ جنرل پرویز مشرف کی وردی کا ہے۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر نوجوان کو وردی پہننی چاہیے تاکہ جہاد اور فساد میں فرق رہے۔ بالکل درست! پہنا دیجیے وردی ہر نوجوان کو اور جو نہ پہنے اسے پاکستان سے باہر نکال دیجیے تاکہ پورے کا پورا ملک فوج کا ہو جائے، فوج کے بارے میں بعد میں سوچیں گے کہ وہ کس کی ہوتی ہے۔ عالی مرتبت! آپ نے درست کیا کہ وردی کو جہاد سے اور عام لباس کو فساد سے منسلک کر دیا۔ کیونکہ اب چوغے، عبائیں اور لبادے پہننے والوں کو دیکھتے ہی فوراً فسادیوں کا خیال آ جایا کرے گا۔ اورچند باتیں جن کا ذکر نہیں ہُوا ان کے بارے میں مجھے یہ کہنا ہے کہ کیا حضور نے یہ نہیں سنا کہ جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا مرتبہ کتنا بڑا ہے؟ کیا آپ کی نظر سے یہ بھی نہیں گزرا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس شخص کا کیا درجہ ہے جو عہد شکنی کرے؟ آپ تو جانتے ہی ہوں گے کہ کسی کو اس کے مقام سے ہٹا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جانا کسی کے حق کو غصب کرنا کہلاتا ہے اور غاصب کو اسلام کن نگاہوں سے دیکھتا ہے؟ اور اگر حضور بھی نظریۂ ضرورت کے حامی ہیں تو ہٹلر کے اقدام اور تمام ڈکٹیٹروں کے کام، سب کو جواز تو ملے گا ہی لیکن یزید نے جو کچھ کیا وہ بھی نظریۂ ضرورت کے زمرے میں آ جائے گا۔ اگر حضور اس نظریے کےحامی ہیں تو امید ہے کہ آئندہ یزید اور یزیدیت کے حق میں بھی سینیٹ میں کچھ نہ کچھ ارشاد ضرور فرمائیں گے۔ چلیے! دیکھتے ہیں کہ تماشا ہوتا ہے یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||