مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 |  ایم ایم اے پہلے بھی ایسے مظاہرے کر چکی ہے (فائل فوٹو) |
پاکستان میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وردی نہ اتارنے کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ملک بھر سے موصول اطلاعات کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت بیشتر شہروں میں انتہائی کم تعداد میں لوگوں نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔ اسلام آباد میں آبپارہ چوک پر ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں شریک مقررین میں ایم ایم اے کا کوئی بھی مرکزی رہنما شامل نہیں ہوا۔ جلسے میں صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی نہ اتارنے کے خلاف تو کم نعرے لگے مگر زیادہ بات مشین سے پڑھے جانے والے نئے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ نہ شامل کئے جانے کے حوالے سے ہوئی۔ جلسےمیں لوگوں کی تعداد شروع میں تو ان پولیس اہلکاروں سے بھی کم رہی جو اس موقع پر کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے تعینات کئے گئے تھے۔ جلسے میں زیادہ تعداد آس پاس سے جمع کیے گئے مدارس کے ان بچوں اور لڑکوں کی تھی جو شاید یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ صدر مشرف نے وردی نہ اتار کر قانون کی کس شق کی خلاف ورزی کی ہے۔ جلسے کے دوران ایک موقع پر جب سٹیج سےالجہاد کے نعرے لگوائےگئے تو شرکاء خاموش رہے جس کے بعد انہیں بتایا گیا کہ الجہاد کے بعد لبیک کہنا ہوتا ہے۔ جلسےمیں ایم ایم اے کے اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے رکن میاں اسلم نے جنرل مشرف کی امریکہ سے دوستی اور ان کے روشن خیالی کے تصور کو تنقید کا نشانہ بنایا مگر وردی کے حوالے سے انہوں نے بھی کچھ نے کہا۔ |