ایم ایم اے کے مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک بھر میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وردی نہ اتارنے کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ ملک بھر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت بیشتر شہروں میں انتہائی کم تعداد میں لوگوں نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔ اسلام آباد میں آبپارہ چوک پر ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ اس جلسے میں ایم ایم اے کا کوئی بھی مرکزی رہنما شریک نہیں ہوا۔ جلسے میں جنرل مشرف کی وردی نہ اتارنے کے خلاف تو کم نعرے لگے اور زیادہ نعرے مشین سے پڑھے جانے والے نئے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ شامل نہ کئے جانے کے حوالے سے لگائے گئے۔ جلسےمیں لوگوں کی تعداد شروع میں تو ان پولیس اہلکاروں سے بھی کم رہی جو اس موقع پر کسی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تعینات کئے گئے تھے۔ جلسے میں زیادہ تعداد آس پاس سے جمع کئے گئے مدارس کے ان بچوں اور لڑکوں کی تھی جو شائد یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ صدر مشرف نے وردی نہ اتار کر قانون کی کس شق کی خلاف ورزی کی ہے۔ جلسے میں ایک موقع پر جب سٹیج سےالجہاد کے نعرے لگوائےگئے تو شرکا خاموش رہے جس کے بعد انھیں بتایا گیا کہ الجہاد کے بعد لبیک کہنا ہوتا ہے۔ جلسےمیں ایم ایم اے کے اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے رکن میاں اسلم نے جنرل مشرف کی امریکہ سے دوستی اوران کے روشن خیالی کے تصور کو تنقید کا نشانہ بنایا مگر وردی کے حوالے سے انھوں نے بھی کچھ نے کہا۔ ایم ایم اے نے اکتیس دسمبر کے بعد صدر مشرف کی وردی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ جمعہ کو ایم ایم اے نے ملک بھر میں یوم سیاہ منایا تھا لیکن اس موقعہ پر بھی منعقد ہونے والے جلسے جلوسوں میں لوگوں کی شرکت مایوس کن رہی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||