باوردی صدر: احتجاج میں عدم شرکت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج لاہور میں متحدہ مجلس عمل کی رکن مذہبی جماعتوں کےکارکنوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے آرمی چیف رہنے کے خلاف یوم سیاہ منایا لیکن اے آر ڈی کی جماعتوں نے اعلان کے برعکس اس میں شرکت نہیں کی۔ متحدہ مجلس عمل نے پورے ملک کی طرح لاہور میں بھی چار مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جن میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے شرکت کی۔ تاہم ان مظاہروں میں شریک افراد کی تعداد چند درجن سے زیادہ نہ تھی۔پہلا جلسہ ساڑھے تین بجے مسلم مسجد لوہاری گیٹ لاہور کے پاس ہوا جس میں مجلس عمل کے پچاس ساٹھ کارکن جمع ہوئے اور پوسٹر اور جھنڈے اٹھا ایک قطار میں سڑک کے کنارے مسجد کے ساتھ کھڑے رہے۔ یہ مظاہرین مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ بعد جمع ہوئے اور ان کی تعداد اس جگہ پر لگائی گئی پولیس کی تعداد سے زیادہ نہیں تھی۔ سرک پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی۔ مظاہرین سیاہ جھنڈے اور جنرل مشرف کے خلاف کارٹوں والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے اور یہ مظاہرین جنرل مشرف کا نام لیے بغیر ان کے نام لیے بغیر نعرے لگا رہے تھے۔’جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے غدار ہے‘۔ چوک یتیم خانہ پر مجلس عمل کے مظاہرہ میں نسبتا زیادہ لوگ شریک ہوئے۔ ان کی تعداد سو ڈیڑھ سو کے لگ بھگ تھی۔ جماعت اسلامی کے رہنما فرید پراچہ نے ایک ٹرک پر بنائے گئے اسٹیج پر کھڑے ہوکر مظاہرین سے خطاب کیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایک روز پہلے اعلان کیا تھا کہ احتجاج پر امن رہے گا اور یہ کہ صدر جنرل پرویز مشرف مجلس عمل کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فضل الرحمن نے چند روز پہلے وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات بھی کی تھی۔ اے ار ڈی کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(نواز) نے مجلس عمل کے یوم سیاہ میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا تھا اور اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم کا اس ضمن میں بیان بھی اخباروں میں شائع ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ نکلسن روڈ پر نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی رہائش گاہ پر اے آر ڈی کے احتجاجی جلسے سے خطاب کریں گے تاہم ایسا نہیں ہوا۔ اے آر ڈی کے کارکنوں نے نہ تو مجلس عمل کے مظاہروں میں شرکت کی اور نہ ہی نکلسن روڈ پر اس کا کوئی کارکن موجود تھے۔ البتہ نکلسن روڈ پر پریس فوٹوگرافروں اور رپورٹروں کی تعداد اے آر ڈی کے کارکنوں اور چھوٹی رکن جماعتوں کے قائدین سے زیادہ تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||