علی حسن بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد |  |
 |  فائل فوٹو: مولانا فضل الرحمان اور امین فہیم |
پاکستان میں حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کا ایک اتحاد اے آر ڈی آج سکھر میں ہونے والے اپنے سربراہی اجلاس میں صرف یہ فیصلہ کر سکا کہ آئندہ اجلاس اس ماہ کی گیارہ تاریخ کو لاہور میں منعقد کیا جائے گا۔ گیارہ جنوری کے اس میں متحدہ مجلس عمل کے ساتھ کسی تعاون کے سلسلے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس بارے میں آج کے اجلاس کے بعد بی بی سی نے اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم سے مختصر انٹرویو کیا۔ سوال: گرینڈ الائنس کے بارے میں کیا غور کیا گیا؟ مخدوم امین فہیم: آج چونکہ کچھ رہنما نہیں پہنچ سکے ہیں اس لۓ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب گیارہ جنوری کو لاہور میں اجلاس بلائیں گے، اس میں حکمت عملی بنائیں گے کہ کس طرح ہم آگے بڑھیں گے، جو ایم ایم اے اور اے آر ڈی مل مل کر کام کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ سوال: ایم ایم اے کے ساتھ کوئی بات چیت متوقع ہے؟ امین فہیم: ہم نے دو رکنی کمیٹی بنائی تھی جو ایم ایم اے سے بات چیت کرے لیکن ایم ایم اے نے ابھی تک باضابطہ بات چیت نہیں کی ہے، سوائے اس کے قاضی حسین احمد کے ساتھ کچھ بات ہوئی اور ہم میں کچھ ایگریمنٹ تھا کہ ہم مل کر جدوجہد کریں گے۔ اب اس کو حتمی شکل دینا ہے کہ طریقۂ کار کیا ہوگا۔ سوال: ایم ایم اے سے بات کرنے کے بعد پھر گرینڈ الائنس کی طرف جائیں گے؟ امین فہیم: متفقہ جدوجہد کی بات کریں گے۔ گرینڈ الائنس کی بات ابھی تک منظر پر نہیں آئی ہے۔ سوال: ایم ایم اے نے جو کال دی ہے اس پر گذشتہ دو روز میں عوام کے ردعمل کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ امین فہیم: شارٹ نوٹس پر لوگ کافی احتجاج کرنے نکلے۔ سوال: آپ اسے کامیاب یا ناکام شو قراردیتے ہیں؟ امین فہیم: ہمارے خیال میں یہ کامیاب ابتدا تھی۔ سوال: صدر جنرل پرویز مشرف کے گجرات کے جلسے میں تو لوگوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ہے؟ امین فہیم: سرکار کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔ سرکاری عملے کو شریک ہونے کا پابند کیا جاتا ہے ورنہ ان کی تنخواہ کاٹی جاتی ہے، دیگر عناصر تعاون کرتے ہیں۔ یہ سیاست نہیں ہے، یہ ملٹری کا اپنا رول ہے۔ سوال: اے آر ڈی کب سے تحریک کا آغاز کر رہی ہے؟ جواب: آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ اے آر ڈی نے احتجاج بہت پہلے شروع کردیا ہے۔ ہم نے مالا کنڈ، آزاد کشمیر میں جلسے کیے ہیں۔ آج سکھر میں جلسہ ہو رہا ہے ۔ یہ سوال تو مناسب نہیں ہے کہ ہم کب تحریک شروع کررہے ہیں۔ |