’کلوننگ غیرشرعی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں منعقد پانچویں فقہی کانفرنس نے انسانی کلوننگ اور انسانی عضاء کی فروخت غیرشرعی قرار دے دی ہے۔ منتظمین کے مطابق اس دو روزہ کانفرنس کا مقصد سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیش نظر معاشرے میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں مذہبی نکتہ نظر معلوم کرنا تھا۔ اس کانفرنس میں جس کا افتتاح وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی نے کیا انسانی کلوننگ، رویت ہلال میں جدید سائنسی تحقیق، قرآن و حدیث کی روشنی میں فلکیات جدیدہ اورقرآن مجید کا نظریہ تسخیر کائنات جیسے پیچیدہ مسائل پر بات ہوئی اور مقالات پڑھے گے۔ جامعہ المرکز الاسلامی پاکستان کے زیر اہتمام اس کانفرنس میں فقہی محقیقن اور اہل علم نے ان موضوعات پر مقالے پیش کئے۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیے میں کلوننگ اور انسانی عضاء کی خرویدو فروخت کو غیراسلامی عمل قرار دیا گیا۔ اس بارے میں رکن قومی اسمبلی اور ریئس جامعتہ المرکز الاسلامی پاکستان، بنوں سید آغا نے انسانی کلوننگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے پیدا ہونے والے شخص کے والدین کا پتہ نہیں چل سکتا۔ ڈاکٹر میں نثار کو کہنا تھا کہ کلوننگ سے جو اخلاقی پیچیدگیاں جنم لیں گی وہ انسانیت کے لئے عذاب سے کم نہیں ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد داود نے سلایڈز کی مدد سے بتایا کہ اسلام میں کسی چیز کو اصل سے ہٹانے کی اجازت نہیں اس لئے کلوننگ غیرشرعی ہے۔ مفتی عبدالنور نے انسانی عضاء کے کاروبار کو غیرشرعی قرار دیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی کا کہنا تھا کہ اس تبادلہ خیال اور تحقیق سے فقہہ کی روشنی میں عوام کے شکوک و شبہات کا ازالہ ہوگا اور ایک متفق رائے ابھر کر سامنے آئے گی۔ اس سلسلے میں ان کا موقف تھا کہ علما اور دانشوروں کے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کانفرنس سے قائد حزب احتلاف مولانا فضل الرحمان نے بھی خطاب کیا اور دین کے احکامات درست صورت میں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ منتظمین کے مطابق کانفرنس کے اختتام پر عوامی آگہی کے لئے اس بحث کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||