ندیم سعید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان |  |
بلوچستان سے ملحقہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں جمعرات کے روز ایک بار پھر ریلوے لائن کو بم سے اڑایا دیا گیا ہے۔ ریلوے لائن اڑانے کا تازہ واقعہ ڈیرہ غازی خان شہر سے بیس کلومیٹر دور کوٹ چھُٹہ ریلوے سٹیشن کے قریب اس وقت پیش آیا جب کوئٹہ سے لاہور جانے والی چلتن ایکسپریس نے چند منٹ بعد وہاں سے گزرنا تھا۔ حکام کے مطابق مبینہ شر پسندوں نے ریلوے لائن اس وقت اڑائی جب چلتن ایکسپریس کا پائلٹ انجن قریب آتا دکھائی دیا۔ دھماکے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم ٹرینوں کی آمد و رفت کئی گھنٹے معطل رہی۔ محکمہ ریلوے ملتان کے چیف ٹریفک کنٹرولر طارق قریشی کے مطابق ریلوے لائن کے متاثرہ حصے کو درست کرنے میں چار گھنٹے لگے جس کے بعد رکی ہوئی چلتن ایکسپریس اور خوشحال ایکسپریس دوبارہ چل پڑیں ہیں۔ دو روز قبل ڈیرہ غازی خان کے شادن لُنڈ اور درویش لاشاری ریلوے سٹیشنوں کے درمیان بھی نامعلوم شر پسندوں نے ریلوے لائن کو بم سے اڑا دیا تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے ضلعی پولیس افسر سلمان چوہدری کا کہنا تھا کے شادن لُنڈ کے قریب ہونے والے دھماکے میں غیر ملکی ساخت کا ٹائم بم استعمال کیا گیا تھا۔ جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ کوٹ چھُٹہ کے قریب ہونے والے دھماکے میں بظاہر ریموٹ کنٹرول بم استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی جانب سے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔ پنجاب کے نیم قبائلی اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور خشک پہاڑوں کے سلسلے کوہِ سلیمان کے مشرقی جانب واقع ہیں جبکہ اِس کے مغربی جانب بلوچستان کے کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی کے اضلاع واقع ہیں۔ ڈیرہ اور راجن پور کے اضلاع میں نہ صرف بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے بلکہ ان علاقوں کی سیاسی قیادت بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے لغاری، مزاری، کھوسہ، دریشک، قیصرانی، گورچانی، بُزدار اور لنُڈ قبائل کے سردار ہی کرتے ہیں۔ بلوچستان کی کئی قوم پرست جماعتیں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو بلوچستان میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں۔ |