BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 February, 2005, 08:45 GMT 13:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: بجلی کا بحران جاری
بلوچستان
اس سے پہلے بھی بجلی کے کھمبوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
منگل کو بجلی کی فراہمی منقطع ہوجانے کی وجہ سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کا بڑا حصہ ابھی تک تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔

صحافی ایوب ترین نے کوئٹہ میں واپڈا کے ترجمان جبرائیل خان کے حوالے سے بتایا کہ پورے صوبے میں بجلی کی بحالی کے لیے دو بڑے کھمبے دوبارہ لگانے پڑیں گے جس کے لیے کم سے کم ایک یا دو ہفتوں کا وقت درکار ہوگا۔

انہوں نے بدھ کی صبح بتایا کہ صوبے کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ صرف ان علاقوں کو بجلی مل رہی ہے جہاں پنجاب سے بجلی لی جاتی ہے یا مکران میں جہاں لوگوں کے اپنے انتظامات ہیں۔

ایوب ترین کے مطابق کوئٹہ میں مقامی گرڈ سٹیشن سے وقفے وقفے سے بجلی دی جا رہی ہے۔ شہر میں کچھ اخبارات بھی چھپ نہیں سکے جبکہ بعض علاقوں میں ٹیوب ویلوں کی بندش سے عوام کو پینے کا پانی بھی فراہم نہیں کیا جا سکا۔

بارہ فروری کو شٹر ڈاؤن
بلوچ اور پشتون جماعتوں نے 12 فروری کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت معاملے پر غور کر رہی ہے اور مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالات صوبائی حکومت کے قابو میں ہیں۔

انہوں نے کہا کچھ حملہ آوروں کے بارے میں کچھ شواہد ملے ہیں اور ضروری معلومات کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں زیادہ تر راکٹوں سے حملے کیے جا رہے ہیں جو سات یا آٹھ کلومیٹر کے فاصلے سے داغے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں ملزم تک پہنچنا آسان نہیں۔

ایوب ترین نے بتایا کہ صوبے میں مقامی گرڈ سٹیشنوں سے حکومت نے بجلی کی فراہمی کے انتظامات کیے ہیں لیکن ان سے دن میں صرف ایک یا دو گھنٹے کے لیے بجلی مل سکتی ہے۔

منگل کی رات کو تقریباً سوا نو بجے سبی کے جنوب مشرق میں چار کلو میٹر کے فاصلے پر بلوچستان کو بجلی فراہم کرنے والی ہائی ٹینشن لائین کے دو بڑے کھمبوں پر بموں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں پورے صوبے میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔

خود کو بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان قرار دینے والے ایک شخص نے بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

گزشتہ اتوار کو بھی بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک واردات کے نتیجے میں کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر حصوں کو بجلی فراہم کرنے والی لائن کے چار کھمبوں کو تباہ کر دیا گیا تھا جس سے بلوچستان کے چالیس فیصد علاقوں کو بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی تھی۔

اس حملے کے بارے میں بھی بلوچستان لبریشن آرمی نے ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ادھر بلوچ اور پشتون جماعتوں نے سوئی میں چھاؤنی کی تعمیر اور مجوزہ فوجی
آپریشن کے خلاف 12 فروری کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

ان قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت بزورِ طاقت بلوچستان کی گیس، تیل اور دیگر وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد