’ کوئٹہ بدل سا گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ کافی تبدیل ہوگیا ہے۔ آخری مرتبہ جب میں سن دو ہزار دو کے عام انتخابات کی کوریج کے لئے یہاں آیا تھا اس وقت کے اور اب کے کوئٹہ میں کافی فرق آ گیا ہے۔ انگریزی کی ایک مشہور کہاوت کے مطابق اس عرصے میں کافی پانی پل کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ تین برسوں میں یہاں بہت کچھ ہوا ہے۔ اتنا کچھ کہ یقین نہیں آتا کہ اتنے قلیل عرصے میں یہ قدرے چھوٹا سا شہر اس کا متحمل کیسے ہوسکتا ہے۔ شہر پر گزرنے والے مصائب کا ذکر بعد میں کروں گا آغاز مثبت اثرات سے ہو تو شاید بہتر ہو۔ شہر میں آمد پر پہلی پرمُسرت تبدیلی سڑکوں کی کشادگی اور مناسب قمقموں سے سجاوٹ ہے۔ تقریبا ہر سڑک دو رویہ کر دی گئی ہے اور سڑک کے دونوں جانب قمقمے ان راستوں کو رات کے وقت بھی دن کا سا سماں دیتے ہیں۔ کئی شاہراہوں پر کام اب بھی جاری ہے۔ ماضی میں کوئٹہ میں میرے قیام کے دوران پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا تھا۔ بارشیں غائب تھیں اور زیر زمین پانی کی سطح روز بہ روز گرتی جا رہی تھی۔ ایسی صورتحال میں ماہرین نے پانی کی تلاش کی بجائے کوئٹہ کے باقی ماندہ دن گننے شروع کر دیے تھے۔ لیکن کوئٹہ پہنچا تو بارش اور روانہ ہوا تو بارش۔ ملک کے دیگر علاقوں میں جاری بارشوں کا سلسلہ کوئٹہ کو بھی نم کرنے لگا ہے جوکہ ایک اچھی تبدیلی تھی۔ کسی سے پوچھا کہ اور کیا تبدیل ہوا تو اس نے بتایا کہ بلوچستان کا کونہ کونہ ٹیلیفون کی سہولت سے منسلک ہوگیا ہے۔ اب آتے ہیں اس ظلم اور جبر کی جانب جو اس شہر کے باسیوں کو سہنا پڑا۔ کوئٹہ کے راستے تو کشادہ ہوگئے لیکن یہاں کے باسیوں کے دل شاید تنگ ہوگئے ہیں۔ اس قلیل عرصے میں اس شہر پر وہ بیتی کہ شاید کسی اور شہر پر گزری ہو۔ مسجدوں اور امام بارگاہوں پر حملے ہوئے اور سینکڑوں بےگناہ افراد نفرت کی آگ کی نذر ہوگئے۔ شہریوں کو خوف اور بےیقینی کی حالت میں کئی کئی روز تک کرفیو میں گزارنے پڑے۔ اب شہر میں کئی مقامات پر شیعہ سنی بھائی بھائی کی عبارتوں سے سجے بینرز آویزاں نظر آتے ہیں۔ ان بینرز کی پہلے ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور اب بھی دعا ہے کہ ان کی آگے چل کر بھی کبھی ضرورت محسوس نہ ہو۔ بڑی شہروں کی زندگی میں مشکل گھڑیاں آتی رہتی ہیں۔ لیکن کوئٹہ شاید ملک کا واحد ایسا شہر ہے جہاں مختلف سوچ و فکر اور قوموں سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں بستے ہیں۔ ان میں اختلافات کبھی نہیں رہے۔ ہر کوئی اپنی دھن میں مگن رہا۔ کسی نے کسی دوسرے سے غرض نہیں رکھی۔ بلوچ اپنے کام میں مصروف، پشتون اپنے۔ شیعہ، سنی، ہزارہ، آباد کار، افغان غرض کئی قسم کے لوگ یہاں صدیوں سے آباد تھے۔ لیکن یہ مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش اب کیوں کی گئی؟ یہ سب کچھ اب کیوں ہوا۔ شاید کوئٹہ ایسا بیک یارڈ تھا جہاں امن کے مخالف باآسانی چھپ سکتے تھے۔ جہاں انہیں کوئی پکڑ نہیں سکتا تھا۔ وجہ جو بھی ہو اب امید کی جانی چاہیے کہ اس پرفضاء شہر کو مزید بری نظر نہیں لگے گی اور نیا سال امن اور سکون کا ضامن ثابت ہوگا۔ یہاں کی شاہراہوں کی طرح یہاں کے دل بھی کشادہ رہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||