کوئٹہ: ذاتی مسلح محافظوں پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس نے ذاتی مسلح محافظوں کو ساتھ رکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذالعمل ہوگا۔ بلوچستان میں بااثرشخصیات اپنے ساتھ مسلح محافظوں کا گروہ رکھتے ہیں اور یہ یہاں پر ایک فیشن بھی بن چکا ہے۔ اب کوئٹہ میں پولیس نے ذاتی مسلح محافظوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کوئٹہ کے پولیس چیف پرویز رفیع بھٹی نے جمعرات کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسلح محافظوں کی آڑ میں جرائم ہوتے ہیں کیونکہ ایک عام شہری امن پسند کرتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ بااثر شخصیات کے ساتھ آٹھ دس محافظ ہوتے ہیں جن کے پاس کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ ہوتا ہے جس سے زمینوں پر زبردستی قبصہ کرنا اور عام شہریوں کو ڈرانے دھمکانے جیسے جرائم انہی مسلح محافظوں سے کرائے جاتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صوبائی حکومت یہ دباؤ برداشت کرنے کی متحمل ہے تو انھوں نے کہا ہے اندرون بلوچستان میں دشمنیوں کی بنیاد پر بہانے بنائے جاتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ کچھ دنوں کے لیے پولیس محافظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سیکریٹریٹ میں بم دھماکے کے بعد صاحبان اقتدار کو بتا دیا تھا کہ بااثر شخصیات کے ساتھ جانے والے افراد کی چیکنگ کی جائے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے جس کا مقصد کوئٹہ کو پر امن شہر بنانا ہے اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||