BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 August, 2004, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچستان میں آپریشن نہیں ہو رہا‘

شجاعت حسین
وزیرِ اعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا ہے بلکہ صرف انفرادی کارروائیاں کرنے والوں کے خلاف ایکشن ہو رہا ہے ۔

وہ لاہور میں ایک ہسپتال کے توسیعی منصوبہ کے افتتاح کے موقع پر اخبارنویسوں سے بات چیت کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن صرف سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا تھا اور دراصل لوگ اس وقت سے ڈرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف انفرادی کارروائیاں کرنے والوں اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں خلاف ایکشن کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جوہری سائسندان ڈاکٹر قدیر ہیرو ہیں اور ان کی صحت بھی ٹھیک ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عراق کے بارے میں عوام جو چاہیں گے وہ ہی حکومتی پالیسی ہوگی۔

وزیر اعظم نے لاہور ہی میں ایک دوسری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسی قانون سازی کر رہی ہے کہ آئندہ کسی واقعہ پر پولیس مقدمے کے امکان کے باوجود اولین ترجیح مریض کی جان بچانے پر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کئی مریض محض اس لیے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کہ پولیس کیس ہونے کی وجہ سے انہیں فوری علاج کی سہولت میسر نہیں آتی۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ بلا خوف پہلے مریض کو دیکھیں اور اسے طبی امداد فراہم کریں خواہ وہ پولیس کیس ہی کیوں نہ ہو انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں ڈاکٹروں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں ایک بل انہوں نے منظوری کے لیے بھجوا دیا ہے اور توقع ظاہر کی کہ یہ بل ایک ہفتے کے اندر منظور ہوجائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد