بلوچستان میں کیمپوں کاانکشاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف نے منگل کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں کہا ہے کہ تُربت میں فوجی کارروائی کے دوران کم سے کم پچیس ایسے کیمپوں کا انکشاف ہوا ہے جہاں وہ سارا سامان موجود تھا جسے دہشت گردی کی وارداتوں کے لیےاستعمال کیا جا سکتا ہے۔ حِزب اختلاف کے اراکین کی تقریروں کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ مبینہ طور پر ان کیمپوں سے دھماکہ خیز مواد، ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء اور شمسی توانائی سے چلنے والی بیٹریاں برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ کارروائی مقامی حکومتوں اور لوگوں کے مطالبے پر شروع کی گئی ہے۔ اس دوران صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ ان تمام کیمپوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور کچھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے ان میں سے ایک کو عنقریب سامنے لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی رٹ قائم کرے۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے وزیر اعلیٰ کی تقریر کے جواب میں کہا کہ گزشتہ روز وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا تھا کہ تربت میں جاری فوجی کارروائیوں سے کچھ نہیں ملا۔ انھوں نے کہا ہے کہ اشیا ء کی برآمدگی کی بات درست نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||