بلوچستان اسمبلی میں احتجاج، ہنگامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اسمبلی میں منگل کو حزب اختلاف نے صوبے میں جاری مبینہ فوجی کارروائی اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف زبردست احتجاج کیا ہے۔ اس احتجاج کے دوران حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے اراکین نے وفاقی وزیر خزانہ شوکت عزیز اور خضدار میں فوجیوں پر حملے کے خلاف ایک مذمتی قرارداد بھی منظور کی۔ اسمبلی کے اجلاس میں جس کی صدارت ڈپٹی سپیکر کر رہے تھے حزب اختلاف کے اراکین نے نعرہ بازی شور شرابا اور احتجاجی مظاہرہ کیاہے۔ ان اراکین کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرہ اور احتجاج صوبے میں جاری مبینہ فوجی کارروائیوں سیاسی کارکنوں کی گرفتاری اور قائدین کے خلاف درج مقدمات کےحوالے سےکیا گیا ہے۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ صوبہ میں قوم پرست جماعتوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تمام خزانوں کا دفاع کیا جائے گا چاہے وہ گیس ہو، تیل ہو معدنیات ہوں یا سونا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم ایسے ہی کسی کو سب کچھ نہیں لے جانیں دیں گے”۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک آل پارٹیز اجلاس طلب کریں گے تاکہ موجودہ صورتحال کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔ اس کانفرنس میں گورنر، وزیر اعلیٰ کے علاوہ ہر سیاسی جماعت کا پارلیمانی لیڈر اور جماعت کا قائد شرکت کرے گا۔ حزب اِختلاف کے اراکین نے اس تجویز کا جواب دینے کے لیے دو روز کا وقت مانگا ہے۔ دریں اثناء اسمبلی کے باہر ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے انجنیئرز نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سوئی گیس فیلڈ میں مقامی افراد کو معاہدے کے تحت روزگار فراہم کیا جائے۔ بے روزگار انجینئرز کے نمائندہ فضل بگٹی نے اپنے مطالبات حزب اختلاف کے اراکین کو پیش کیے۔ یاد رہے کہ سوئی میں بے روزگار ی کے حوالے سے کوئی اڑھائی ماہ سے احتجاج جاری ہے جبکہ گزشتہ سال کئی ماہ تک مقامی افراد نے روزگار کے لیےاحتجاج کیا تھا۔ لیکن اس بارے میں حکومتی جانب سے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے جس سے مقامی افراد میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||