فوجی آپریشن: قوم پرستوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں چار بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد کے زیراہتمام فوجی کارروائیوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور ہزارہ سیاسی کارکنوں نے بھی کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے کا ساتھ دیا ہے۔ ان قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جبکہ اس موقع پر زبردست نعرہ بازی کی گئی۔جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے پرچم نمایاں نظر آرہے تھے۔ جمہوری وطن پارٹی کے لیڈر آغا شاہد بگٹی بلوچستان نیشنل پارٹی کے حبیب جالب ایڈووکیٹ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے قادر لالہ نے اپنی تقریروں میں کہا ہے کہ صوبے میں غیر اعلانیہ فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ انھوں نے کارکنوں کی گرفتاری پر شدیدغصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب صوبے کے خلاف سازش کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ تربت میں فوجی آپریشن کے وہ خود شاہد ہیں جہاں شدید بمباری کی گئی اور اس دوران ان علاقوں کو فوجیوں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ اس آپریشن میں ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے بھی استعمال ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ یہ اگر فوجی آپریشن نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ آغا شاہد بگٹی اور حبیب جالب ایڈووکیٹ نے اپنی تقریروں میں کہا ہے کہ یہ احتجاج جاری رہے گا۔ انھوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سب کچھ ایک صوبے کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں سے صوبے کی معدنیات اور وسائل بڑی تیزی سے لوٹے جا رہے ہیں۔ قادر لالہ نے ذرائع ابلاغ پر سخت تنقید کرتے ہو ئے کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں کی صحیح رپورٹنگ نہیں کی جا رہی۔ حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں سے بنگلہ دیش کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جب وہاں کارروائیاں کچھ اور ہو رہی ہوتی تھیں اور یہاں ’سب اچھاہے‘ کی رپورٹ ذرائع ابلاغ سے پیش کی جاتی تھی۔ شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ سبی میں ان کے کارکنوں کو کچھ دیر کے لیے پولیس نے نظر بند رکھا تھالیکن بعد میں رہا کردیا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں ان کے کارکنوں نے زبردست مظاہرے کیے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ منگل کے روز بلوچستان اسمبلی میں ان کی اراکین مظاہرہ کریں گے جبکہ ستائیس اگست کو شٹر ڈاؤن ہڑتال ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||