بلوچستان آپریشن پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں مبینہ آپریشن کے خلاف پیر کے روز سندھ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور نمائندہ بلوچ رہنماؤں کو اعتماد میں لیا جائے۔ جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم ) کی اپیل پر حیدرآباد میں جسقم کے کارکنوں نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اورعلامتی بھوک ہڑتال کی۔ حیدرآباد کے ٹیکنیکل کالج سے جسقم کی حامی طلبہ تنظیم نے جلوس نکالا اور آپریشن کے خلاف نعرے لگائے۔ طلبہ بلوچ رہنماؤں کے خلاف مقدمات واپس لینے کا مظالبہ کر! رہے تھے۔ لاڑکانہ میں پیپسی پارک سے ایک جلوس نکالاگیا۔ مظاہرین نے جناح پارک کے پاس ایک گھنٹے کے لئے دھرنا دیا۔ لاڑکانہ ضلع کے شہروں باڈہ، شہدادکوٹ اور سیہڑ سے بھی احتجاجی مظاہروں اور جلوس نکالنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ جیکب آباد میں احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ مظاہرین نے شہر کی اہم شاہراہوں پر گشت کیا۔ شرکاء بلوچ عوام کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ دادو میں میونسپل پارک سے جلوس نکالا گیا جو پریس کلب کے پاس اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے شہر کی اہم شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گئی۔ بدین ضلع کے شہر گولاڑچی میں مظاہرہ کیا گیا اور مقامی پریس کلب کے سامنے مظاہرین نے علامتی بھوک ہڑتال کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک سازش کے تحت آپریشن کیا جا رہا ہے۔ جس سے کچھ عناصر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ بلوچستان میں فوری آپریشن بند کیا جائے۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے جس کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی بلوچستان میں مسلح کارروائی کی گئی تھی جس کے ملکی سیاست پر مضر اثرات مرتب ہوئے تھے- سندھ کے قوم پرست حلقوں میں بھی بلوچستان میں مبینہ آپریشن کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔ سندھ کی قوم پرست تنظیموں نے بلوچ عوام سے یکجہتی کے اظہار کا فیصلہ کیا ہے۔ جیئے سندھ محاذ کی جانب سے دس سے اٹھارہ اگست تک نواب شاہ سے لیکر کراچی تک مظاہرہ کئے جائینگے۔ ایک اور قوم پرست گروپ سندھ نیشنل پارٹی کی جانب سے یوم آزادی کے دن چودہ اگست کو ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں یکجہتی ریلیان نکالی جائینگی۔ سندھ نیشنل کونسل نےگیارہ اگست کو بلوچوں سے یکجہتی کا دن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ بارہ آگست کو چھوٹے صوبوں کی تنظیموں کے اتحاد پونم سندھ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ جس میں بھی بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||