کوئٹہ میں بم دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جشن آزادی کی رات کوئٹہ میں دو دھماکے ہوئے ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یہ دھماکے وائٹ روڈ پر کچھ فاصلے پر لگ بھگ پون گھنٹے کے وقفے سے ہوئے ہیں۔ادھر تحصیل نوشکی میں تین راکٹ فائر ہوئے ہیں اس سے بھی کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ کوئٹہ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پرویز بھٹی نے کہا ہے کہ آج جشن آزادی سے ایک روز قبل اور جشن آزادی کے روز کے لیے انہیں یہ خدشہ لا حق تھا کہ بعض قوتیں اس طرح کی واردات کر سکتی ہیں جس کے لیے پولیس کی بھاری نفری شہر میں تعینات کی گئی تھی۔ ایک دھماکہ سیکرٹیریٹ سے کچھ فاصلے پر سیکرٹری اطلاعات کے گھر کے قریب کوئی پونے دس بجے ہوا جس سے ان کے گھر میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ دوسرا دھماکہ لگ بھگ پون گھنٹے کے بعد کوئی تیس میٹر دور ہوا ہے ۔ دونوں دھماکوں سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے ۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ دیسی ساخت کی ٹائم بم تھے اور ان کی بناوٹ ایسی ہے جس سے زیادہ نقصان نہیں ہوتا ہے بلکہ اس سے زوردار آواز پیدا ہو تی ہے۔ ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ یہ واردات وہ لوگ کر سکتے ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ لوگ آزادی کا جشن منائیں اور یہ کام خوف و حراس پھیلانے کے لیے کیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں آج سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ چھاؤنی کے علاقے میں بغیر سٹیکر گاڑی کے داخلے کی اجازت تک نہیں دی جا رہی تھی۔ چھاؤنی داخل ہونے والے تمام راستوں پر فوجی تعینات تھے۔ کوئٹہ میں عام طور پر بھی چھاؤنی کے علاقے میں داخلے کے لیے سختی برتی جاتی ہے لیکن آج غیر ضروری اقدامات کیے گئے تھے۔ ادھر بلوچستان کے شہر نوشکی سےیہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ شہر کے قریبی علاقوں میں تین راکٹ فائر کیے گئے ہیں جو مخلتف مقامات پر گرے ہیں۔ تحصیلدار نوشکی حمیداللہ نے بتایا ہے کہ یہ راکٹ قریبی علاقوں میں گرے ہیں جہاں سے آوازیں سنی گئی ہیں تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ راکٹ کہاں گرے ہیں۔ لیویز کے اہلکار تفتیش کر رہے ہیں۔ یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ راکٹ باری سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ نوشکی ضلع چاغی کے قریب واقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||