بلوچستان کس زمانے میں ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے اکثر دیہی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے جہاں انسان، کتے اور گدھے ایک ہی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ان علاقوں میں اکثر لوگوں کو صاف اور گدلے پانی کی تمیز کرنا بھی نہیں آتا۔ خضدار کے قریب ایک دیہات ترکھالہ میں گزشتہ دنوں دست اور قے کی بیماری پھیل گئی جس سے اب تک چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ لوگ آلودہ پانی پینے سے ہلاک ہوئے ہیں اور کوئی ایک سو بیس افراد اس پانی سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے گیارہ کی حالت تشویشناک بتائی گی ہے۔ ایک دیہاتی امان اللہ کا کہنا ہے کہ ایک ہی جوہڑ ہے جہاں سے وہ پانی پیتے ہیں اور ان کے ساتھ کتے اور گدھے بھی اسی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں۔ ’اگر یہ پانی بھی نہیں پئیں گے تو کیا کریں گے ہمارے لیے صاف اور شفاف پانی کی سہولت تو میسر نہیں ہے۔ ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ صاف اور گدلے پانی میں کیا ہوتا ہے پانی تو بس پانی ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے بعض اوقات اس میں گند بہت آجاتا ہےلیکن ہم لوگ چھان لیتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اب جب سے یہ بیماری پھیلی ہے حکومت نے پانی کے ٹینکر منگوائے ہیں۔ ’وہ پانی بہت اچھا لگتا ہے لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ جب حالات معمول پر آ جائیں گے پھر کیا ہو گا؟ ہم وہی آلودہ پانی پیئیں گے ۔۔۔اس کے بعد پھر اگر ایک ایک کر کے بیمار ہوئے تو ہمیں کوئی پوچھے گا بھی نہیں اور اگر اکھٹے بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہوئے تو پھر کچھ عرصہ کے لیے صاف پانی پینے کو ملے گا۔‘ صوبائی حکومت کے اس سال کے بجٹ میں سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے جس کے لیے سب سے زیادہ رقم مختص ہے۔ تعلیم تیسرے اور صحت چوتھے نمبر پر ہے۔ صاف اور شفاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ ترجیحات میں کافی دور ہے۔ ڈیموں اور پانی کے ذخیروں کی تلاش کے منصوبے بجٹ میں شامل تو ضرور ہیں لیکن عام آدمی تک ان منصوبوں کا فائدہ کم ہی پہنچتا ہے۔ ترکھالہ جیسے ہزاروں دیہاتوں میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو آلودہ پانی کو صاف سمجھ کر پی لیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||