BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: درجنوں افراد کو فوڈ پوائزننگ

جناح ہسپتال
کئی مریضوں کو جناح ہسپتال کے پوائزن کنٹرول سنٹر میں داخل کر دیا گیا۔
کراچی میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو جناح ہسپتال سمیت شہر کے بیشتر بڑے ہسپتالوں میں ایک ہی علاقے سے تین سو سے زیادہ افراد کو فوڈ پوائزننگ کے باعث داخل کرنا پڑا۔

ان مریضوں کو ایدھی ایمبولنسوں کے ذریعے ہسپتال تک لایا گیا۔

ان تمام افراد کو متلی اور الٹیاں ہو رہی تھیں اور کئی بے ہوش ہو چکے تھے۔ ان سب لوگوں کا تعلق شاہ لطیف ٹاؤن اور سب نے ایک ہیں دودھ والے سے سستے داموں دودھ خریدا تھا۔

جناح ہسپتال پہنچنے والے تقریباً سوا سو افراد میں سے جن مریضوں کی حالت نازک تھی انہیں جناح ہسپتال کے پوائزن کنٹرول سنٹر میں داخل کر دیا گیا۔

جناح ہسپتال کے پوائزن کنٹرول سنٹر کے انچارج ڈاکٹر آفتاب ترابی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کو پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی شکایت اور نہ تھمنے والی متلیوں کے باعث یہاں لایا گیا تھا ۔

ڈاکٹر ترابی نے بتایا کہ کئی مریضوں کے پیٹ کی صفائی کر دی گئی اور بعض کو فارغ بھی کر دیا گیا ’لیکن بعض اب بھی ہمارے پاس زیر علاج ہیں کیونکہ ان کے معدے میں دودھ میں ملا زہریلا مادہ موجود ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔‘

ڈاکٹر ترابی نے بتایا کہ ان مریضوں میں دو حاملہ خواتین بھی شامل تھیں جن کی حالت تشویش ناک تھی مگر اب بہتر ہے۔

جناح ہسپتال کے وارڈ نمبر پانچ میں داخل کئی خواتین مریضوں نے بتایا کہ وہ لطیف ٹاؤن اور جوگی موڑ سے آئی ہیں۔ خواتین نے بتایا کہ ’ہفتے کی دوپہر دیر گئے ہم نے حسب معمول جب دودھ خریدا تو دودھ والے نے بتایا کے آج فی لیٹر دودھ کی قیمت پانچ روپے کر دی گئی ہے بس پھر ہم نے کئی کئی لیٹر دودھ خرید۔ لیا کچھ نے کھیر پکائی اور بعض نے گرمی سے تنگ آ کر شربت بھی بنایا تھا۔‘

لطیف ٹائون سے اپنی بچی کو یہاں داخل کرانے والی مائی سعیدہ بولی ’ارے کیا بتاؤن پانچ پانچ روپے لیٹر بیچ رہے تھے سو ہم غریبوں نے خرید کر کھچڑی کے ساتھ کھایا تھا ۔ میری بچی کو تب سے اب تک چین نہیں ہے۔ ڈاکٹر بولتا ہے پیٹ میں زہر چلا گیا ہے صفائی کر کے نکال رہے ہیں۔‘

اس کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ دودھ بیچنے والوں میں سے بعض کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

ڈاکٹر آفتاب کے مطابق گرمی میں ایسے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں مگر احتیاط لازمی ہے کیونکہ گندے پانی اور کبھی کچی برف سے دور دراز بستیوں کے غریب رہنے والوں کو سستا برف اور کم قیمت دودھ کا استعمال مہنگا پڑ جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد