BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 June, 2004, 07:11 GMT 12:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چترال میں نہر کے لئے احتجاج

News image
گاؤں کے لوگ اپنا مطالبہ منوانے کے لئے علامتی احتجاج کر رہے ہیں
ضلع چترال ہے تو صوبہ سرحد کا دور افتادہ پہاڑی علاقہ لیکن اس میں بھی کئی علاقے ایسے ہیں جہاں وہاں کے لوگوں پر کیا بیت رہی ہے اس کا اندازہ باہر کی دنیا کو کم ہی ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک علاقہ تحصیل موڑ کہو ہے۔

اس علاقے کے چالیس ہزار رہائشی گزشتہ ایک ماہ سے علامتی بھوک ہڑتال کیمپ لگائے بیٹھے ہیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ان کا مسئلہ خالص انسانی ہے۔ وہ کوئی سڑک یا سکول نہیں مانگ رہے صرف اور صرف پانی کے لئے چیخ و پکار کر رہے ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں کی علاقے میں خشک سالی سے ان کے کھیت کھلیان سوکھ چکے ہیں، باغات اجڑ چکے اور پینے کو بوند پانی نہیں۔

لہذا ایسے میں ان کا جینا دوبھر۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی کو نقل مکانی پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ سینکڑوں خاندان پہلے ہی اس قدرتی آفت کے سامنے ہتھیار پھینک کر چترال کے دیگر علاقوں کے جانب کوچ کر چکے ہیں۔ جو پیچھے رہ گئے وہ قدرت اور حکومت کی مہربانی کا انتظار کر رہے ہیں۔

صدر پرویز مشرف جولائی 2000 میں اپنے دورہ چترال کے اس علاقے میں نہر اتہک کی منظوری اور اس پر جلد کام شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس منصوبے سے چالیس ہزار کی آبادی مستفید اور تیس لاکھ ایکڑ دو فصلی اراضی سیراب ہونی ہے۔ ماہرین کے خیال میں اس نہر کی تعمیر سے یہ علاقہ گندم، سبزی اور میوہ جات میں خود کفیل ہوسکتا ہے۔

اس اہم چینل کے عملی پروگرام یعنی فیزبلٹی رپورٹ کے منظور ہونے کے بعد حکومت سروے اور ایپروچ روڈ کے لئے اڑتیس لاکھ روپے پہلے ہی خرچ کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ رہائشی کالونی کے لیے اراضی بھی خریدی جا چکی ہے۔ چار مرتبہ اس منصوبے کے لئے ٹھیکہ طلب کیا گیا لیکن ٹھیکہ دار یہ کہہ کر پیچھے ہوگئے کہ اس کے لیے رقم میدانی علاقے کو سامنے رکھ کر مختص کی گئی ہے جبکہ یہ نہر تیرا ہزار فٹ کی بلندی پر تعمیر کی جانی ہے۔

اس نہر کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کے رہنما میر ایوب نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کو متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت سے کافی توقعات وابستہ تھیں لیکن ان تین سالوں میں اس نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ ’ہم سے کوئی یہ بھی پوچھنے نہیں آیا کہ آپ لوگ کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔‘

علاقے کے رہائشی سولہ مئی سے احتجاجی مظاہرے، بھوک ہڑتال اور جلسے جلوس منعقد کر رہے ہیں لیکن انہیں وہ ذرائع ابلاغ میں جگہ نہیں ملی رہی جو ان کا کہنا ہے کہ ان کا حق ہے۔ اس احتجاج میں علاقے کی خواتین، طالبات اور بڑے بوڑھے بھی شامل ہیں لیکن کوئی اب تک اس کا اثر نظر نہیں آ رہا۔

چترال کی معروف شخصیت اور مقامی یونین کونسل کے ناظم عبدالولی کا کہنا ہے کہ اس انسانی مسئلے کا کوئی سیاسی پہلو نہیں ہے۔ ’تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں اور حکومت سے ایک گلاس پانی کا پرزور مطالبہ کر رہی ہیں‘

میر نواب کا کہنا تھا کہ حکومت جب تک اس منصوبے کا نیا تخمینہ منظور کر کے اس پر کام کا آغاز نہیں کرتی ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد