آلودہ پانی پینے سے چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خضدار کے قریب آلودہ پانی سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ تحصیل وڈھ کے ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر دین محمد نے کہا ہے کہ اب سے تھوڑی دیر پہلے ایک اڑھائی سالہ بچہ نعیم اللہ ہلاک ہو گیا ہے۔ بلوچستان کے شہر خضدار میں وڈھ تحصیل کے قریب آلودہ پانی سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو بیس سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ دس افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ خضدار کے ضلعی افسر برائے صحت ڈاکٹر الہی بخش نے کہا ہے کہ گزشتہ روز متاثرین کی تعداد چالیس تھی اور جمعرات کی رات تک اسی مریض طبی کیمپ پہنچے ہیں جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ متعلقہ ندی کے پانی کو قرب و جوار کے پانچ گاؤں کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ڈائریا کی یہ بیماری جس میں دست اور قے آنا شروع ہو جاتی ہے عام طور پر ان دنوں میں ہوتی ہیں جب علاقے میں بارش ہوتی ہے۔ ڈاکٹر الہی بخش نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس علاقے میں معدنیات کی بہتات ہے اور یہ پانی معدنیات کی وجہ سے آلودہ ہو جاتا ہے جس سے ڈائریا جیسی بیماری پھوٹ پڑتی ہے۔ انھوں نے کہا ہےے کہ علاقے میں ندی اور جوھڑ کے قریب محافظ تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ پانی کی فراہمی کے لیے علاقے میں ٹینکر موجود ہیں۔ انھوں نے کہا ہے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار ہے جن میں ایک بچہ اور دو خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرین میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ جن مریضوں کی حالت تشویشناک ہے انھیں وڈھ کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر کو ادھر کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ قبل ازیں ناظم خضدار سردار اسلم بزنجونے کہا ہے کہ اس علاقے میں زیادہ تر خانہ بدوش رہتے ہیں جو ان جوہڑوں کا پانی پیتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کی ٹیم اس علاقے کی طرف بھیج دی گئی ہے جہاں متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ضلعی افسر برائے صحت خضدار ڈاکٹر الٰہی بخش نے کہا ہے کہ پانی کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جن کا جائزہ لیا جائے گا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جوہڑ کے پانی میں زہریلے اثرات پیدا ہوئے ہیں جس سے حالات خراب ہوئے ہیں تاہم صورتحال اُس وقت واضح ہو گی جب پانی کا مکمل تجزیہ کر لیا جائے گا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے کہا ہے کہ ابھی صبح ایک اور شخص کی ہلاکت کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے لیکن تاحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||