BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 June, 2004, 00:14 GMT 05:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیدرآباد ہلاکتیں 30 تک پہنچ گئیں

سندھ میں پانی کا بحران
صوبہ سندھ کے ‎شہر حیدر آباد کے ایگ‍زیکٹو افسر (ای ڈی او) صحت کے مطابق دریا سندھ کا آلودہ پانی پینے کے نتیجے میں پیر تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیس ہو چکی ہے۔

یہ لوگ وہ آلودہ پانی پینے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں جو نو یا دس مئی کو منچھر جھیل سے دریا سندھ میں چھوڑا گیا تھا ۔ پانی میں نمکیات کی مقدار بہت زیادہ تھی اور پانی بھی ٹھہرا ہوا تھا۔

لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی لیبارٹری رپورٹ کے مطابق جو پانی پینے کے لئے فراہم کیا گیا اس میں بکٹیریا موجود تھے جو لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنے۔

لوگوں کی ہلاکت کا آغاز 15 مئی سے ہوا تھا حالانکہ ذرائع ابلاغ نے 13 مئی کو ہی دریا میں آلوہ پانی کے اخراج کی خبریں شائع کردی تھیں۔ ( بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس نے 12 مئی کو یہ خبر سب پہلے نشر کی تھی) لیکن متعلقعہ حکام او رمحکموں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا اسی لئے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر کوئی قابو پایا نہیں جاسکا تھا ۔

سندھ کے اس وقت کے وزیر اعلٰی علی محمد مہر نے واقعہ کے کم از کم دس روز بعد 24 مئی کو مختصر دورہ کیا تھا اور چیف سیکریٹری کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

بحران
لوگوں کی ہلاکت کا آغاز 15 مئی سے ہوا تھا

چونکہ وہ ایک بہت ہی ڈھیلی ڈھالی مخلوط حکومت کے سربراہ تھے اس لئے بڑے ذمہ دار افراد بچ گئے جبکہ چھوٹے افسران سرکاری کارروائی کا شکار ہو گئے۔

چار افسران کا تبادلہ کر دیا گیا۔ جب شور اٹھا تو حکومت نے ان افسران کے خلاف 29 مئی کو پولیس میں مقدمہ درج کرا دیا جس میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اس پورے حادثے میں ای ڈی او کے مطابق تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 3785 افراد سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے داخل کرائے گئے۔

پانی کا معیار یا کیفیت اب تک بہتر نہیں ہوسکی ہے۔ پیر کی شام ای ڈی او نذر محمد جونیجو نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ پانی کی کیفیت بہتر ہوئی ہے لیکن اس میں جراثیم مو جود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ عوام سے پانی ابال کر پینے کے لۓ کہ رہا ہے تاکہ اس سے کم سے کم نقصان پہنچے۔

تیس افراد کی ہلاکت کے بعد واٹر کوالٹی منیجمنٹ کمیٹی ، واٹر کرائسس منیجمنٹ سیل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی بھی پیر کے روز تشکیل دی گئی ہیں۔ لیکن معاوضہ کی ادائیگی کے لئے کسی کمیٹی کا قیام عمل میں اب تک نہیں لایا گیا۔

اس معاملے میں ایک اور قابل افسوس پہلو بھی سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ ای ڈی او جونیجو کے مطابق ہسپتالوں میں کسی بھی مرض میں ہلاک ہو جانے والوں کے کئی ورثا ڈاکٹروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ان کے مریض کی موت کو بھی آلودہ پانی کے استعمال کے نتیجے میں ہونے والی موت قرار دیا جائے۔ جونیجو کے خیال میں اس کی وجہ حکومت کی طرف سے ہلاک شدگان کے لئے دو دو لاکھ روپے کے معاوضہ کا اعلان ہے جس کی ادائیگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد