حیدرآباد ہلاکتیں: تعداد 15 ہوگئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دو شہروں حیدرآباد اور ٹھٹھہ میں دریائے سندھ کا آلودہ پانی پینے کے نتیجے میں بدھ کے روز تک کم از کم پندرہ افرادہلاک ہو چکے ہیں۔ کم از کم پندرہ روز سامنے آنے والے اس مسئلے کے بارے میں حکومت یہ طے نہیں کر سکی ہے کہ منچھر جھیل میں موجود نمکیات سے بھر پور پانی کو جو پینے اور زراعت میں استعمال کے لۓ قطعی نا قابل استعمال تھا کیوں خارج کیا گیا اور اس کی ذمہ داری کس پر عا ئد ہوتی ہے۔ منچھر جھیل کبھی ماہی گیری کے لئے مشہور تھی لیکن اب اس میں سیم زدہ زمینوں کا ’کڑوا‘ پانی رائٹ بنک آوٹ فال ڈرین کے ذریعے جھیل میں ڈالا جا رہا ھے جس کے باعث جھیل اپنی تاریخی اور تفریحی حیثیت اور معاشی اہمیت کھو بیٹھی ہے۔ حیدرآباد میں حکومت نے ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے 727 ملین روپے کا قرضہ لیکر 1991 میں پینے کے لئے صاف اور جراثیم سے پاک پانی فراہم کرنے کے لئے فلٹر پلانٹ لگایا تھا۔ اس سے پانی فلٹر کرنے کے لئے اس حد تک غفلت سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کئی ماہ سے اس میں نہ جراثیم کش دوا کلورین کا استعمال ہوا اور نہ ہی پانی میں موجود مٹی کو تہہ میں بٹھانے کے لۓ پھٹکری کا استعمال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے فلٹر پلانٹ کی مد میں کوئی رقم نہیں رکھی گئی جبکہ عوام یہ سمجھتے رہے کہ انہیں پینے کے لئے فلٹر شدہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ فلٹر پلانٹ روزانہ تین کروڑ گیلن پانی فلٹر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ شہر میں پانی کی روزآنہ کھپت سات کروڑ گیلن ہے جس کی وجہ سے آدھے سے زیادہ شہریوں کو پینے کے لئے پانی کسی بھی ٹریٹمنٹ کے بغیر فراہم کیا جا رہا ہے۔ لطیف آباد، حسین آباد، پھلیلی، پریٹ آباد اور خود شہر کے کئی علاقوں میں تو دریا یا نہروں سے جو پانی کھلے تالاب میں بھر دیا جاتا ہے وہ ہی تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ان تالابوں کے گرد چار دیواری تک نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||