حیدرآباد ہلاکتیں: تعداد اٹھارہ ہوگئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیس روز قبل پاکستان کے دریائے سندھ میں ایک جھیل کا کثیف پانی خارج کرنے کے نتیجے میں حیدرآباد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ ہو گئی ہے۔ جبکہ حکومت سندھ نے اتنے بڑے حادثے کی تحقیقات کے بعد تین محکموں کے افسران کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں میں اب تک پیٹ کے امراض کے شکار افراد کا علاج کے لیے داخلہ جاری ہے۔ دوسری طرف حکومتِ سندھ کے اِس فیصلے کے نتیجے پر جس کے تحت محکمہ آب پاشی کے ایک انجینئیر، ادارہ ترقیات حیدرآباد کے سربراہ، حیدرآباد میں پانی کی سپلائی کرنے والے ادارے کے سربراہ اور ضلعی حکومت کے صحت کے انچارج کے تبادلوں پر سیاسی اور سماجی حلقوں نے سخت تعجب کا اظہار کیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیرِاعلیٰ نے تمام متعلقہ لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا یقین دلایا ہے۔ لیکن کارروائی صرف چھوٹے افسران کے تبادلوں کی صورت میں نکلی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ محکموں کے سیکریٹری اِس لیے محفوظ رہے کہ سندھ میں مخلوط حکومت ہے اور ہر سیکریٹری کسی نہ کسی وزیر یا مشیر کا منظورِ نظر ہے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے متاثرین کو دو دو لاکھ روپے معاوضہ دینے کا جو اعلان کیا تھا اس پر بھی اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||