بُگٹی ڈوسیئر: بلوچستان مسائل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی نے ’بگٹی ڈوسیئر‘ کے نام سے ایک کتابچہ جاری کیا ہے جس میں بلوچستان سے متعلق مختلف مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کا حل تجویز کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کتابچہ میں صوبائی خود مختاری کو ملک میں جاری کشیدگی کا واحد حل قرار دیا گیا ہے۔ یہ کتابچہ ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب ایک طرف مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بلوچستان کے حوالے سے مذاکرات کر رہی ہے اس کے علاوہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین سے وفاقی حکومت کے علیحدہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ جماعت کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے پیر کے روز ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ اس کتابچے کا مقصد اہل بلوچستان کو حالات سے آگاہ کرنا ہے جبکہ یہ تمام مسائل اورحل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔ اس کتابچہ میں گوادر میگا پراجیکٹ اور فوجی چھاؤنیوں کے قیام کو صوبہ بلوچستان کے خلاف ایک سازش قرار دیاگیا ہے۔ کتابچے میں کہا گیا ہے کہ گوادر میں پنجاب کی ایک بڑی آبادی کو بلوچستان میں آباد کیا جائے گا جیسا کہ صدر ایوب اور بھٹو کے دور میں پٹ فیڈر کے علاقے میں کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی۔ اب حکومت کی لاکھ یقین دہانیوں کے باوجود اسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ سونے کے غلاف میں لپیٹا ایسا منصوبہ ہےجس میں نام بلوچستان کا اور کام پنجاب کا ہوگا۔ ا س سلسلے میں مزاحمت ایک قدرتی فعل ہے کیونکہ یہاں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر بلوچستان کا ساحل چلا گیا تو بلوچستان کی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔ اس کتابچہ میں کہا گیا ہے کہ گوادر ماسٹر پلان کو ’جان بوچھ کر خفیہ رکھا گیا ہے‘ جس کے تحت گوادر میں ہوائی اڈے سے لے کر کوہ باطل تک موجود پچاس ہزار آبادی کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ گوادر میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زمین کو حکومتِ بلوچستان کی ملکیت سے نکال کر مختلف افراد کے نام پر منتقل کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ فلسطین پر قبضے کے لیے یہودیوں نے اپنایا تھا۔ کتابچے میں چھاؤنیوں کے قیام پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں سے ایک طرف پنجاب کی آبادی کو یہاں بسایا جائے گا اور اگر مقامی لوگوں نے مزاحمت کی تو اسے طاقت کے ذریعے کچل دیا جائے گا ۔ اور تیسرا یہ کہ بلوچستان کے وسائل پر قبصہ کیا جائے کیونکہ جن تین علاقوں میں چھاؤنیوں کا قیام مقصود ہے ان میں گوادر سوئی اور کوہلو کے علاقے شامل ہیں۔ گوادر ساحل کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے جہاں سے ایک اندازے کے مطابق ہر سال تین ارب ڈالر کے مچھلیاں اور جھینگے نکالے جا سکتے ہیں۔ سوئی اور کوہلو کے علاقے گیس تیل اور یورینیم کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔ اس کتابچے میں پندرہ حل تجویز کیے گئے ہیں جن میں صوبائی خود مختاری، بلوچ قوم کا قدرتی وسائل پر حق تسلیم کرنا، میگا پراجیکٹس کی آمدن صوبہ بلوچستان کو ملنے، بڑے منصوبوں کے حوالے سے بلوچ قوم کے خدشات دور کرنے اورفوجی چھاؤنیوں کے قیام کے منصوبے ترک کرنا، سیاسی بنیاد پر گرفتار افراد کی رہائی اوراندروں بلوچستان سے تمام وفاقی فورسز کی واپسی وغیرہ شامل ہیں ۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی بھی آئندہ چند روز میں بلوچستان کے دورے پر پہنچ رہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ روز قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف کے میڈیا ایڈوائزر رازق بگٹی نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ ایسے بیانات نہ دیے جائیں جن سے مذاکرات کا عمل متاثر ہو۔ جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ انھیں ان کمیٹیوں سے کوئی توقعات نہیں ہیں ۔ جماعت کے لیڈر آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں شمولیت اور کمیٹی میں شرکت کا مقصد یہ ہے کہ کل یہ نہ کہا جائے کہ بلوچ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||