بلوچستان: کارکنوں کی گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ دو سو سے زیادہ سیاسی کارکنوں اور قائدین کے خلاف مخلتف قسم کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات گزشتہ کچھ برسوں میں قائم کیے گئے ہیں اور اس وقت بقول ان قائدین کے کچھ حوالات میں ہیں اور کچھ لاپتہ ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ، نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان نیشنل موومنٹ کے قائدین اپنے جلسوں اوراخباری کانفرسوں میں یہ دعوے کرتے ہیں کہ ان کے کارکنوں کو حراساں کرنے اور ان سے سیاسی قائدین کے خلاف بیانات حاصل کرنے کے لیے جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔ کئی سیاسی کارکنوں کے وکیل اور بی این پی مینگل کے لیڈر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ لگ بھگ دو سو کارکنوں اور سیاسی قائدین کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں تقریبا دو درجن زیر حراست ہیں جبکہ کئی لاپتہ ہیں۔ ان کارکنوں کے گھر والوں کو دو تین مہینے تک معلوم بھی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کہاں ہیں۔ ایک اور وکیل خاتوں شکر بلوچ نے کہا ہے کہ کم عمر نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان پر سخت جسمانی تشدد کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں انسانی حقوق کی تنظیم کو مطلع کیا گیا ہے۔ شکر بلوچ نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو پوچھ گچھ یا تفتیش کے بعد رہا کر دیا جاتا ہے وہ خوف کے مارے زبان نہیں کھولتے۔ گزشتہ دنوں ایک بزرگ خاتون نے اخباری کانفرنس میں اپیل کی تھی کہ اس کا بیٹا تین سال سے زائد عرصہ سے گرفتار ہے اور اس پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا ہے۔ اس دوران اس کے بیٹے کے گردے خراب ہوئے ہیں لیکن اسے طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس کے بیٹے گل حسن کو قانون نافذ کرنے والے اہلکار لے گئے تھے اور تین ماہ تک انھیں علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے۔ اب ان کا بیٹا گل حسن ہسپتال میں ہے لیکن اسے بہتر طبی سہولتیں فراہم نہیں ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گل حسن مختلف مقدمات میں ملوث ہے اور اس پر تشدد نہیں کیا گیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے لیڈر سینیٹر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے حکومت کبھی یہ تسلیم نہیں کرتی کہ اس نے بے گناہ لوگوں کو گرفتار کیاہے۔ یہ عدالت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنھیں گرفتار کیا گیا ہے وہ بے گناہ ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کئی لوگ زیر حراست ہیں اور کئی غائب ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ ظلم ہے اور اسی طرح کا ظلم مشرقی پاکستان میں بھی روا رکھا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان میں نائب چیئر مین ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ان کے علم میں لایا گیا ہے اور انھوں نے خود بھی اس بارے میں تحقیق کی ہے کہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں دس سے زیادہ افراد کو ماورائے عدالت ہلاک کیا گیا ہے اور اسی طرح کئی زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے پولیس کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے وزیر اعظم شوکت عزیز کے کوئٹہ کے دورے کے دوبران ان سے ملاقات کی تھی اور ان سے ان کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس بارے میں تاحال کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||