خودمختاری: ترمیم شدہ آئینی مسودہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی نے صوبائی خود مختاری کے حوالے سے ترمیم شدہ آئینی مسودہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں پیش کر دیا ہے جس میں خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات پر توجہ دی گئی ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصہ سے صوبائی خود مختاری کے، خصوصا صوبوں کے وسائل کے حوالے سے، مطالبے میں شدت آئی ہے اور یہاں قوم پرست جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ یہ وسائل صوبوں کے خزانے ہیں جن پر وفاق نے قبضہ کر رکھا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں جاری اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے سابق وزیراعظم شجاعت حسین نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اعلان کیا تھا جس میں اب جمہوری وطن پارٹی کے جانب سے ترمیم شدہ آئینی مسودہ جمع کرایا گیا ہے۔ اس مسودے میں صوبائی خود مختاری صوبوں کے وسائل پر صوبوں کا اختیار سینیٹ میں صوبوں کی مساوی نمائندگی اور سینیٹ کو بااختیار ادارہ بنانے جیسی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ اتوار کے روز کوئٹہ پریس کلب میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی اور سینیٹر امان اللہ کنرانی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگرچہ اس مشترکہ کمیٹی سے انہیں کوئی زیادہ توقعات وابستہ نہیں تاہم وہ مذاکرات کے اس عمل کو خراب نہیں کرنا چاہتے اور اسی لیے اس میں بھر پور شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کمیٹی کی کیا کارکردگی ہوگی جس میں اڑتیس ارکان ہوں اور اس کی دو زیلی کمیٹیاں ابھی سے قائم کر دی گئی ہوں؟ شاہد بگٹی نے بتایا ہے کہ ان کی جماعت نے انیس سو اٹھانوے میں چھپن نکاتی ایک آئینی مسودہ ماہرین کی مدد سے تیار کرکے سینیٹ میں جمع کرادیا تھا جس پر اب کچھ عرصہ پہلے مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔ یہ مذاکرات نواب اکبر بگٹی سے وفاقی حکومت کے نمائندے طارق عزیز کی اگست میں ہونے والی ملاقات کے بعد شروع ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اس مسودے کو تین حصوں میں تقسیم کرکے کچھ غیر اہم نکات تسلیم کیے ہیں، زیادہ تر پر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ جبکہ صدر کے اختیارات سے متعلق نکات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ چھپن نکاتیی مسودہ بڑے پیمانے پر تیار کیا گیا تھا۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ ایک ترمیم شدہ مسودہ دوبارہ انہوں نے تیار کرکے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کر دیا ہے جس میں صوبائی خود مختاری اور بلوچستان کے حوالے سے تمام نکات شامل کیے گئے ہیں کیونکہ یہ کمیٹی بھی بلوچستان کے حولے سے قائم کی گئی ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ سال ستمبر سے بم دھماکوں اور راکٹ باری کا سلسلہ شروع ہوا اور اس دوران سیکیورٹی فورسز پر حملے بھی ہوئے ہیں جس کے بعد وفاقی حکومت نے تربت اور گوادر کے سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی کی تھی۔ اس سال جولائی میں گورنر بلوچستان نے نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کی تھی جسے نواب اکبر بگٹی نے دھمکی آمیز قرار دیا تھا جبکہ اگست میں طارق عزیز سے ملاقات کو انہوں نے بہتر پیش رفت کہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||