بلوچستان: وزیر داخلہ کا استعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں وزیراعلی جام محمد یوسف کی کابینہ میں شامل دوسرے وزیر داخلہ نے بھی استعفی دے دیا ہے۔ شعیب نوشیروانی نے کوئی چھ ماہ قبل وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالا تھا۔ آج اتوار کے روز ایک اخباری کانفرنس میں انہوں نے کہا ہے کہ ن کے پاس نہ تو کوئی اختیارات تھے اورنہ ہی کا بینہ میں ان کی بات سنی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل مجلس عمل کے اراکین کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں کے اراکین کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ وزیراعلی بلوچستان جام محمد حوسف کے پاس کوی اختیارات نہیں ہیں بلکہ اصل میں مجلس عمل ہی حکمرانی کر رہی ہے۔ یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ وزیراعلی بلوچستان جام محمد یوسف شعیب نوشیروانی کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شعیب نوشیروانی موجودہ حکومت میں شامل دوسرے وزیر داخلہ ہیں جنہوں نے نے وزارت داخلہ سے استعفی دیا ہے۔ اس سے پہلے سردار ثناء اللہ زہری بھی استعفی دے چکے ہی۔ سردار ثناءاللہ زہری نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ بےاختیار تھے اصل اختیارات اس وقت کے صوبائی پولیس افسر اور ایجنسیاں استعمال کر رہی تھیں اور انہیں نظر انداز کر وایا جاتا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ تربت اور گوادر میں فوجی کارروائی کے بارے میں حکومت نے شروع میں لا علمی کا اظہار کیا تھا۔ بعد میں کہا تھا کہ یہ کارروائی جرائم پیشہ افراد کے خلاف کی جا رہی ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین بلوچستان اسمبلی میں اور جلسوں میں یہ الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ جام محمد یوسف بے اختیار ہیں اصل اقتدار کے مالک دوسری قوتیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||