بلوچستان: سینیٹ کمیٹی کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے صوبہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی خصوصی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے پیر کی صبح حزب اختلاف کی درخواست پر ہونے والے سینیٹ کے اجلاس سے اپنے غیر متوقع خطاب میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ صوبائی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے اور صدر جنرل پرویز مشرف بھی یہی چاہتے ہیں اس لیے یہ کمیٹی قائم کی جارہی ہے۔ یہ کمیٹی سینیٹ کے چیئرمین اور قائد ایوان تمام جماعتوں کے نمائندوں کی مشاورت کے بعد تشکیل دیں گے جس کے بعد ایوان سے قرار داد منظور کرائی جائے گی۔ کمیٹی بلوچستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے صوبے کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کو سفارشات پیش کرے گی۔ وزیراعظم کے اعلان کا حکومت اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے نمائندوں نے خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر بلوچ اور پشتون اراکین سینیٹ نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی بنا کر معاملات کو طول نہیں دیا جاسکتا اور یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ بلوچستان کے مسائل کا دائمی اور پائیدار حل آئینی اصلاحات میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی اصلاحات میں صوبائی خود مختاری دینی ہوگی جوکہ نہ صرف بلوچستان بلکہ سندھ اور سرحد صوبوں کو بھی دینی ہوگی اور سرائیکستان کے نام سے نیا صوبہ بنانا ہوگا۔ بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن، جس کی حکومت نفی کرتی رہی ہے، کے متعلق مقررین نے دعویٰ کیا کہ اب تک پینتیس فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور دو ہیلی کاپٹر مار گرائے گئے ہیں اور گرفتار ہونے والے کسی شخص کے خلاف ’دہشت گردی، کا الزام حکومت ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے اس دعویٰ کا حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں واضح طور پر کہا تھا کہ بلوچستان میں حکومت ہر حال میں تین فوجی چھاؤنیاں تعمیر کرے گی۔ بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام خلاف، گوادر جیسے بڑے منصوبوں میں بلوچوں کو ملازمتیں وغیرہ دینے اور قدرتی وسائل پر صوبے کا حق تسلیم کرنے کے لیے جہاں سیاسی رہنما مطالبے کرتے رہے ہیں وہاں بعض شدت پسند مسلح گروپ بھی کاروائیاں کر رہے ہیں۔ صوبے میں شدت پسند کاروائیوں میں اضافے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قریبی اور قابل اعتماد شخص طارق عزیز جو کہ ’قومی سلامتی کونسل‘ کے سیکریٹری بھی ہیں، بعض بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کرچکے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے ایسے وقت میں کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جب وہ چند دنوں میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے والے ہیں اور شوکت عزیز نئے وزیراعظم بننے والے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسائل کے حل میں پیش رفت کا دارومدار نئی حکومت کی حکمت عملی پر ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||