قومی اسمبلی میں ہنگامہ، واک آوٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعہ کے روز حزب اختلاف نے بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن کے خلاف سخت احتجاج کیا اور اسپیکر کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ دینے پر علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) کے رکن اسمبلی عبدالرؤف مینگل، حافظ حسین احمد اور نوید قمر سمیت دیگر اراکین نے جب بلوچستان میں فوجی کاروائی کے بارے میں نے نکتہ اعتراض پر بات کرنا چاہی تو اسپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی جس پر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کیا۔ وزیراعظم چودھری شجاعت کی مداخلت پر سپیکر نے اجازت دی جس پر حزب اختلاف کے رکن اسمبلی عبدالرؤف مینگل نے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان میں اٹھائیس روز سے غیراعلانیہ طور پر فوجی آپریشن جاری ہے جس میں گن شپ ہیلی کاپٹر اور ٹینک بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر دو سو افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں جس میں ستر کے قریب خضدار سے پکڑے گئے ہیں۔ انہوں نے میر خیر بخش مری، سردار اختر مینگل اور دیگر کے خلاف داخل مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ عبدالرؤف مینگل نے کہا کہ داخلہ اور اطلاعات کے وزراء نے انہیں ملک دشمن جبکہ وزیراعظم محب وطن کہتے ہیں لیکن وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں کسی سے محب وطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں وہ ترقی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ صوبے کے عوام کے حقوق چاہتے ہیں اور اس کے لیے حکومت سے وہ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے طاقت استعمال کی تو وہ اپنا دفاع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کے خیالات کی راجہ پرویز اشرف، چوہد ری نثار علی خان اور حافظ حسین احمد نے تائید کی اور حکومت پر زور دیا کیا کہ وہ طاقت کے بجائے مذاکرات سے مسئلہ حل کریں اور کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||