بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوادر میگا پراجیکٹ اور فوجی چھاؤنیوں کے قیام کے خلاف بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ کوئٹہ میں پولیس نے پچاس سے زائد بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ کوئٹہ میں بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں صرف بعض مقامات مثلاً کٹ پیس گلی اور مسجد روڈ پر کچھ دکانیں کھلی ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کی یہ کوشش ہے کہ تاجر دکانیں کھول دیں جبکہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین اور کارکن ٹولیوں کی صورت میں شہر کے مخلتف علاقوں میں گشت کر رہے ہیں تاکہ دکانیں بند کرائی جا سکیں۔ ڈِپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پرویز بھٹی نے بتایا ہے کہ شہر میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے پچاس سے زائد کارکنوں اور قائدین کو نقص امن کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اختر لانگو نے کہا ہے ان کے سو سے زیادہ قائدین اور کارکنوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ صوبے کے دیگر علاقے جیسے گوادر، تربت، خضدار، ڈیرہ بگٹی، سوئی، قلات اور چاغی میں مکمل ہڑتال ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں تعلیمی ادارے بند کرا دیئے گئے ہیں اور بعض مقامات پر ٹائر جلائے گئے ہیں۔ صوبے کے شمالی علاقوں مثلاً لورالائی، ژوب وغیرہ میں دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||