قلات میں تاجروں کا احتجاجی مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر قلات میں تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور دکانیں بند رہیں ہیں۔ تاجروں نے کہا ہے کہ ان کی جان اور مال محفوظ نہیں ہے۔ ادھر منگل کے روز ہونیوالے دھماکے کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک انتہائی طاقتور ریموٹ کنٹرول بم تھا۔ انجمن تاجران قلات کے صدر منیر شاہوانی نے کہا ہے کہ بدھ کے روز ہونیوالا احتجاج حکومت کی نا اہلی کے خلاف تھا کیونکہ قلات میں کچھ عرصے کے دوران یہ چوتھا واقعہ ہے۔ پہلے تین دھماکوں میں نقصان نہیں ہوا تھا لیکن لوگوں میں خوف ضرور پایا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اتنا نقصان ہوا ہے لیکن حکومت ٹس سے مس بھی نہیں ہوئی ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے قلات شہر کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی ہے۔ منیر شاہوانی نے کہا ہے کہ وزیر اعلی نے کسی قسم کے ٹھوس اقدامات کا اعلان نہیں کیا ہے۔ منگل کے دھماکے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انتہائی طاقتور ریموٹ کنٹرول بم نصب کیا گیا تھا جس کا مقصد لوگوں کو مارنا تھا۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوما جو دھماکے ہوتے ہیں ان سے نقصان کم ہی ہوتا ہے لیکن آواز زور دار پیدا ہوتی ہے۔ محکمۂ داخلہ کے حکام نے بتایا ہے کہ جس مٹھائی کی دکان میں دھماکہ ہوا ہے یہاں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار آیا کرتے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں سے دو کا تعلق خفیہ ایجنسیوں سے تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ سات دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دکان میں ایک الماری دھماکے سے دور گر گئی جس سے کئی افراد زحمی ہوئے ہیں۔ جہاں دھماکہ ہوا ہے یہ میر نوروز خان چوک کہلاتا ہے جہاں صبح کے وقت کافی ہجوم ہوتا ہے، قریبی دیہاتوں سے تاجر اور عام لوگ یہاں سے خریداری کرتے ہیں۔ اس دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے اور نا ہی حکومت نے اس بارے میں کوئی وضاحت کی ہے کہ آخر یہ دھماکہ کس نے اور کیوں کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||