بلوچستان: فائرنگ سے تین ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تین سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا ہے۔ یہ واقعہ سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی کے آبائی شہر میں چھتر کے مقام پر ہوا ہے جہاں لیویز اور بلوچستان ریزرو پولیس کی مشترکہ ٹیم کچھ جرائم پیشہ افراد کے تعاقب میں جا رہی تھی۔ گوٹھ شہنشاہ کے قریب پہلے سے موجود کچھ افراد نے راکٹ داغے اور فائرنگ کی ہے۔ لیویز اہلکار محمد انور نے بتایا ہے کہ یہ ٹیم دو گاڑیوں میں جا رہی تھی۔ جس گاڑی پر حملہ ہوا ہے اس میں آٹھ اہلکار سوار تھے چونکہ راکٹ براہ راست گاڑی کو نہیں لگا اس لیے باقی اہلکار بچ گئے ہیں۔ یہ علاقے صوبہ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے جہاں سے اکثر یہ اطلاعات موصول ہوتی ہیں کہ مفرور اور جرائم پیشہ افراد ان علاقوں میں روپوش ہیں۔ وفاقی حکومت کے احکامات پر سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے ان سرحدی علاقوں میں نئی پولیس چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں تاکہ اس طرح کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ کچھ روز قبل ڈیرہ بگٹی سے دو افراد نےجمہوری وطن پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی حاجی جمعہ بگٹی کے ہمراہ انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیداروں اور صحافیوں سے ملاقات کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ کے دوران انھیں مارا پیٹا ہے اور جلتے سگریٹ سے اذیت دی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان کا علاقہ آر ڈی دو سو اڑتیس ہے لیکن چھاپہ دوسرے علاقے کی پولیس نے مارا ہے ۔ یہ علاقہ نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی کے ما بین واقع ہے۔ ان علاقوں میں جاری کارروائیوں کے حوالے سے مختلف اطلاعات آرہی ہیں ایک طرف قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ علاقے میں مقامی لوگوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے جبکہ حکومت یہ موقف اختیار کرتی رہتی ہے کہ ان علاقوں میں روپوش جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو کچھ نہیں کہا جا تا۔ مقامی سطح پر یہ کہا جاتا ہے کہ اکثر بڑے واقعات کے بعد بڑی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے جن کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||