بلوچستان میں کیا ہوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن 2004 بلوچستان کے لیے بہت ہی ہنگامہ خیز رہا۔ صوبے میں حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے میگا پراجیکٹ شروع کرنے اور علاقے میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام کے بعد بلوچ لبریشن نامی تنظیم کا نام سننے میں آیا جس نے فوج اور قانون نافذ کرنے والوں پر کیے گئے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ۔ بلوچستان صوبے سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم میر طفراللہ خان جمالی کو بھی اسی سال عہدے سے ہٹادیا گیا۔ہمیشہ کی طرح فرقہ وارانہ تشدد جاری رہا۔ مارچ عاشورہ کے جلوس پر دو افراد نے لیاقت بازار میں ایک دوکان کی بالکونی سے بم پھینکے اور فائرنگ کی اس حملے میں لگ بھگ پچاس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوگے۔ اس کے بعد شہر میں فسادات پھوٹ پڑے۔ تقریبا دو ہفتے تک شہر میں کرفیو نافذ رہا۔ 3 مئی بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک دھماکے سے تین چینی انجینیئر ہلاک ہوئے ہیں اور گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے سائیکل سٹینڈ میں ایک زبردست دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ صبح پونے گیارہ بجے کے لگ بھگ ہوا ہے جس وقت ہائی کورٹ میں بڑی تعداد میں لوگ آتے جاتے ہیں۔ 8 مئی کوئٹہ میں زلزلے کے شدید جھٹکوں سے کم سے کم سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کے جھٹکوں کی شدت چار اعشاریہ سات بتائی گئی ہے۔ 12 مئی 21 مئی گوادر میں راکٹ اور کلاشنکوف کی فائرنگ کے بعد بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں ایک پک اپ گاڑی میں سوار چار نامعلوم افراد نے ائیر پورٹ کے مغربی سڑک سے سات راکٹ فائر کیے اور کلاشنکوف سے فائرنگ کی۔ 24 مئی کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں ریموٹ کنٹرول سائیکل بم کے دھماکے سے پندرہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں تیرہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔پولیس افسران نے کہا ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ 25 مئی کوئٹہ کے قریب کوئلے کی ایک کان میں دھماکے سے پندرہ مزدور ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے ہیں ۔ ان مزدوروں کا تعلق صوبہ سرحد کے علاقے سوات اور دیر سے بتایا گیا ہے۔ 31 مئی بلوچستان کے علاقہ تربت کے قریب مند میں نیم فوجی دستوں کے کیمپ اور وفاقی وزیر زبیدہ جلال کے سکول کے قریب نا معلوم افراد نے راکٹ داغے ہیں جس سے ایک شخص ہلاک اور ایک عورت سمیت چار بچے زخمی ہوئے ہیں۔ 5 جون پاکستان میں القاعدہ اور طالبان نے بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اس بارے میں حکومت نے ان تنظیموں سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔ 11 جون بلوچستان میں چھاؤنیوں کے قیام اور گوادر میگا پراجیکٹ کے حوالے سے چار بلوچ قوم پرست جماعتوں نے مشترکہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے
2 جولائی بلوچستان میں نصیر آباد کے قریب نا معلوم افراد اور فرنٹیئر کور کے ما بین شدید فائرنگ ہوئی ہے اور کمک کے لیے آنے والی ایف سی چیغہ فورس کی گاڑی ایک بارودی سرنگ سے ٹکراگئی ہے جس سے کم سے کم پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ 3 5 جولائی بلوچستان کے شہریوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری اور ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کے خلاف آج بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد اور سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اختر مینگل نے انسانی حقوق کی تنظیم کے چیئر مین کو ایک یاداشت پیش کی ہے اور کہا ہے کہ ان حالات کا انسانی حقوق کے حوالے سے نوٹس لیا جائے۔ 8 جولائی صوبہ بلوچستان کے شہر خضدار کے قریب ایک دیہات میں آلودہ پانی پینے سے کم سے کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو خواتین شامل ہیں اس کے علاوہ چالیس افراد اس پانی سے متاثر ہوئے۔ 26 جولائی بلوچستان کے شہر گوادر اور تربت کے سرحدی علاقے گڈن میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور مزاحمت کاروں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ اس کارروائی میں فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں اور لیویز یعنی علاقائی پولیس کے علاوہ فوجی اہلکار مبینہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز پر آج صبح نا معلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شر پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ 1 اگست بلوچستان کے شہر خضدار میں نا معلوم افراد نے ایک گاڑی پر حملہ کیا ہے جس میں پانچ فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ بعد میں ایک نا معلوم شخص نے ذرائع ابلاغ کےدفاتر میں ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی کا نمائندہ ہے۔ آزاد بلوچ نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی زمہ داری قبول کرتا ہے اور کہا ہے کہ یہ تربت میں جاری فوجی آپریشن کا رد عمل ہے۔ 4 اگست بلوچستان کے شہر خضدار میں پانچ فوجیوں سمیت چھ افراد کی ہلاکت کے حوالے سے سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار اختر مینگل اور ان کے بھائی سابق سینیٹر جاوید مینگل سمیت بارہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ 5 اگست بلوچستان میں کوئٹہ کے قریب پاک فضائیہ کا معراج طیارہ گرا ہے جس میں کسی قسم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ 8 اگست بلوچستان میں پر تشدد واقعات کے بعد وفاقی حکومت کے نمائندے اور صدر جنرل پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز نے جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی سے ڈیرہ بگٹی میں ملاقات کی ہے۔ 9 اگست بلوچستان کے مختلف اضلاع میں چار بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد کے زیراہتمام پریس کلبز کے سامنے فوجی کارروائیوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور ہزارہ سیاسی کرکنوں نے بھی کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے کا ساتھ دیا ہے۔ 10 اگست وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے آج منگل کے روز اسمبلی کے اجلاس میں کہا ہے کہ تربت میں فوجی کارروائی کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس علاقے میں کم سے کم پچیس کیمپ تھے جہاں وہ سارا سامان موجود تھا جسے دہشت گردی کی وارداتوں کے لیےاستعمال کیا جا سکتا ہے۔
14 اگست آج جشن آزادی کے روز کوئٹہ میں پانچ بم دھماکے ہوئے ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ۔اس کے علاوہ پولیس نے ایک راکٹ ناکارہ بنا دیا تھا۔ 16 اگست بلوچستان کے شہر سوئی میں نا معلوم افراد نے فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کے ایک قافلے پر حملہ کیا ہے جس میں چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ 27 اگست گوادر میگا پراجیکٹ اور فوجی چھاونیوں کے قیام کے خلاف بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ کوئٹہ میں پولیس نے پچاس سے زائد بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ بلوچستان کے شہر نوشکی میں چاغی ملیشیا کے گیٹ کے باہر بم دھماکے اور فائرنگ سے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ خضدار میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ 30 اگست بلوچستان کے شہر خضدار کے قریب نال کے علاقے میں نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔ بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے تین قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ 31 اگست بلوچستان کے تاریخی شہر قلات میں ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔ تین زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جنھیں کوئٹہ ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ 10 ستمبر کوئٹہ میں سریاب روڈ پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے بلوچستان یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر عتیق حسن کو ہلاک کر دیا ہے جس کے بعد سول ہسپتال کے سامنے مشتعل افراد نے فائرنگ کی ہے جس سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ 15 ستمبر کوئٹہ میں امام بارگاہ اور عاشورہ کے جلوس پر حملوں کے حوالے سے گرفتار ملزم داؤد بادینی نے عدالت میں آٹھ وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ 20 ستمبر بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ وزیر اعلی جام محمد یوسف کی قیادت میں وہ قرار داد ناکامی کے خوف سے پیش نہیں کر سکی جس میں صدر پرویز مشرف کو فوجی وردی اور صدارت دونوں عہدے پاس رکھنے کی حمایت کر نا تھی۔ 25 ستمبر کوئٹہ میں نا معلوم افراد نے ایک پولیس پارٹی پر حملہ کیا ہے جس میں تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ ڈی ایس پی نثار کاظمی سمیت دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بعد میں پولیس مقامی لوگوں کے مطابق پولیس نے ایک نوجوان کریم شاہوانی کو گھر سے نکال کر گولی ماردی۔ لوگوں نے کہا ہے کہ کریم کو بے گناہ مارا گیا ہے اور اس پر سخت احتجاج کیا ہے اہل محلہ نے پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے کریم کو حکومت کی یقین دہانی تک دفن نہیں کیا گیا۔ 28 ستمبر کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب بس سٹاپ پر ایک بم دھماکے سے ایک شخص ہلاک اور ایک عورت سمیت نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ یہ دہشت گردی کی واردات ہے۔ 30 ستمبر کوئٹہ میں انتیسویں قومی کھیلوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے ۔ قومی کھیلوں کے لیے ملک بھر سے تقریبا ساڑھے تین ہزار کھلاڑی کوئٹہ پہنچے ہیں جو پچیس مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے۔ 3 اکتوبر کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں جہاں انتیسویں قومی کھیل جاری ہیں اتوار کی شام ایک راکٹ گرا ہے جس سے ایک خاتون کھلاڑی بے ہوش ہو گئی جبکہ جناح روڈ کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا ہے ۔ 5 اکتوبر انتیسویں قومی کھیل آج منگل کے روز یہاں اختتام پزیر ہوئے ہیں جس میں پاکستان آرمی نے مجموعی طور پر سب سے زیادہ میڈلز حاصل کیے ہیں جبکہ واپڈا کی ٹیم دوسرے نمبر پر رہی ہیں۔ 6 اکتوبر کوئٹہ میں چھاونی کے علاقے کے قریب ایک دھماکے میں کم سے کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ دھماکہ ایک سپورٹس سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد سے ہوا ہے ۔ 8 اکتوبر کوئٹہ میں بڑے اجتماعات والی مساجد اور امام بارگاہوں میں نمازیوں کی جامہ تلاشی لی جارہی ہے۔ تھیلے اور بیگ وغیرہ لے جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور اس کے علاوہ مساجد اور امام بارگاہوں کے قریب پارکنگ منع ہے۔ یہ اقدامات سیالکوٹ اور ملتان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے بعد کیے گئے ہیں 17 اکتوبر جمہوری وطن پارٹی نے صوبائی خود مختیاری کے حوالے سے ترمیم شدہ آئینی مسودہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں پیش کر دیا ہے جس میں خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات پر توجہ دی گئی ہے۔ 21 اکتوبر بلوچستان میں بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ دو سو سے زیادہ سیاسی کارکنوں اور قائدین کے خلاف مخلتف قسم کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں یہ مقدمات گزشتہ کچھ سالوں میں قائم کیے گئے ہیں اور اس وقت بقول ان قائدین کے کچھ حوالات میں ہیں اور کچھ لاپتہ ہیں۔ 2 نومبر کوئٹہ میں وزیر اعلی سیکرٹریٹ کی عقبی گلی میں ایک کار بم دھماکہ ہوا ہے جس سے ایک عورت سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 4 نومبر بلوچستان کے حوالے سے قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی جو مشاہد حسین کی سربراہی میں بلوچستان کے دورے پر ہے، نے فرنٹیئر کور اور کوسٹ گارڈز کے حکام نے بتا یا ہے کہ صوبے میں ان کی کوئی چھ سو کے لگ بھگ چوکیاں قائم ہیں۔ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں تین زوردار دھماکے ہوئے ہں جس سے صوبائی محکمہ تعمیرات کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ 5 نومبر کوئٹہ میں حضرت علی کی شہادت کے حوالے سے جلوس میں فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔ شہر میں کچھ دیر کے لیےبھگدڑ مچ گئی تھی دکانیں بند ہو گئیں تھیں لیکن انتظامیہ نے صورتحال پر قابو پالیا ہے۔ صوبہ بلوچستان کے شہر دالبندین میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپ گردی جنگل میں نا معلوم افراد نے ایک امریکی امدادی ادارے کے بنیادی مرکز صحت کو آگ لگا دی ہے ۔ دالبندین ضلع چاغی کی تحصیل ہے جو کوئٹہ سے کوئی اڑھائی سو کلو میٹر دور مغرب میں افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب کیمپ کے قریب ایک قبرستان میں قران پاک کے ضعیف نسخے بوریوں میں پڑے پائے گئے۔ 22 نومبر ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان اور پاکستانی صوبہ بلوچستان کو آج جڑواں صوبے قرار دے دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں صوبوں کے گورنروں نے کوئٹہ میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ 24 نومبر بلوچستان میں شدید خشک سالی کی وجہ سے بعض متاثرہ علاقوں سے لوگوں نے نہ صرف نقل مکانی شروع کردی ہے بلکہ بین الاقوامی امدادی اداروں سے لوگوں نے امداد کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ 24 نومبر کوئٹہ میں سریاب پولیس تھانے کے سامنے ایک زور دار دھماکے سے تین راہگیر زخمی ہوئے ہیں۔یہ دھماکہ پولیس تھانے کے سامنے پولیس کی تحویل میں کھڑے ٹرک کے نیچے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا ہے۔
کوئٹہ میں آج کوئی گیارہ ماہ بعد گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش ہوئی ہے 27 نومبر صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ اس واقعہ کے خلاف آج مقامی تاجروں نے کوئٹہ قندھار روڈ بلاک کردیا اور انظامیہ کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے۔
29 نومبر کوئٹہ میں پولیس نے وانہ سے فرار ہو کر یہاں پہنچنے والے چیچنیا کے ایک باشندے کو گرفتار کیا ہے تین فرار ہوگئے ہیں یہ لوگ منی چینجر سے تلخ کلامی کے بعد فرار ہونا چاہتے تھے۔ 30 نومبر وزیرستان ایجنسی وانہ سے فرار ہو کر کوئٹہ پہنچنے والے مشتبہ غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن میں ایک مشتبہ شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ دو غائب ہیں جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس چھاپے کے دوران مشتبہ غیر ملکیوں نے پولیس پر دستی بم پھینکے جس سے دو ایس پی سمیت گیارہ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ 1 دسمبر بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں نا معلوم افراد نے پولیس گاڑی پر دستی بم پھینکے ہیں جس سے دو راہگیر زخمی ہوئے ہیں جبکہ تربت میں ایک دھماکہ ہوا لیکن وہاں سے کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ 10 دسمبر کوئٹہ کے میزان چوک پر دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ نو پارکنگ ایریا میں کھڑے فوجی ٹرک کے قریب ہوا ہے۔ادھر ایک نا معلوم شخص نے اپنا نام ٹیلیفون پر آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے ۔ 11 دسمبر وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نامی تنظیمیں اگر یہاں شہر میں نہیں تو اپنے اپنے علاقوں میں وجود رکھتی ہیں۔
17 دسمبر صدر جنرل پرویز مشرف نے لیاری سے گوادر تک چھ سو پچہتر کلومیٹر طویل ساحلی شاہراہ کا افتتاح کیا ہے اور کہا ہے کہ ان بڑے منصوبوں کی مخالفت کرنے والے لوگ علاقے اور لوگوں کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ 17 دسمبر بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے وفاقی حکومت کی جانب سے قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمیٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل ہے اور اس کمیٹی کے قیام کا مقصد بلوچستان کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ 18 دسمبر کوئٹہ سول سیکرٹیریٹ میں وزراء کے بلاک میں ایک زور دار دھماکہ ہوا ہے جس سے قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||