لاہور میں قومی ڈرامہ میلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان دنوں لاہور میں قومی ڈرامہ میلہ ہو رہا ہے جسے اس بار پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس، ناروے کے سفارت خانہ کے تعاون سے پیش کررہی ہے اور اسے ابسن نیشنل فیسٹیول کا نام دیا گیا ہے۔ نیشنل کونسل آف آرٹس ہر سال تو قومی ڈرامہ میلہ منعقد نہیں کر پاتی لیکن وقفہ وقفہ سے غیر تجارتی تھیٹر گروپوں کے فیسٹیول اسلام آباد میں منعقد کرتی رہی ہے۔ اس دفعہ پہلی بار یہ میلہ لاہور میں منعقدکیا جا رہا ہے۔ ستائیس دسمبر سے شروع ہونے والا یہ ڈرامہ میلہ بارہ روز تک جاری رہے گا جس میں ہر روز رات کو الحمرا ہال میں ایک تھیٹر گروپ کا کھیل پیش کیا جائے گا۔ پورے ملک سے غیرتجارتی تھیٹر گروپ لاہورمیں جمع ہیں۔ اس میلہ میں پیش کیے جانے والے ڈرامے نئے نہیں ہیں بلکہ یہ گروپ پہلے انہیں پیش کر چکے ہیں اب ایک بار پھر ایک جگہ پر وہ اپنے اپنے معروف کھیل لے کر آئے ہیں۔ پہلے روز سرمد صہبائی کا انیس سو بیاسی میں تیار کیا گیا کھیل توتا راما پیش کیا گیا جس میں عام آدمی کی زندگی کے حوالہ سے سیاسی طنز شامل ہے۔ اس کھیل کی کہانی ایک نائی، ایک فوٹو گرافر ، ایک گلی محلہ کے اللہ دتہ نامی وکیل کے گرد گھومتی ہے۔ توتا کا کردار استحصال کرنے والے کو پیش کرتا ہے جبکہ کھیل کا ہیرو سیف الموک مظلوم ہے اور توتے سے مقابلہ کر کے اسے ہراتا ہے اور ہیروئین کا دل جیت لیتا ہے۔
منگل کی رات کو اجوکا گروپ کا کھیل بلھا پیش کیا جائے گا جسے مدیحہ گوہر نے تیار کیا ہے۔ تیسرے دن راولپنڈی کا ڈولفن کمیونیکیشن اپنا کھیل نقل مکانی پیش کرے گا اور چوتھے روز کوئٹہ کے سنگت تھیٹر کے لیے اے ڈی بلوچ دیکھ تماشا کے عنوان سے اپنا ڈرامے اسٹیج کریں گے۔ لاہور کی ثمینہ احمد کا ہتک، لاہور کے جمیل بسمل کا سوتر منڈی ، کراچی کی تحریک نسواں کی شیما کرمانی کا جنگل جنگل زندہ باد ، کراچی کے کرئلاو ورکشاپ کا زہرہ کی گلی ، پشاور کی اباسین آرٹس کونسل کا ستم بالائے ستم ، عمر شریف کا ایک قدم ، کراچی کے کمال احمد رضوی کا بلا کی بد ذات ، رفیع پیر تھیٹر کا پاٹے خان بھی اس میلہ میں دکھائے جائیں گے۔ پانچ جنوری کو آرٹس کے مسائل پر ایک سیمینار بھی ہوگا جس میں تھیٹر سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور نقاد خطاب کریں گے۔ مبصر ثروت حسین کا کہنا ہے کہ اس میلہ کی خاص بات یہ ہے کہ پورے ملک کے غیرتجارتی تھیٹر گروپ اپنے اپنے کھیل ایک جگہ پر دکھا رہے ہیں اور لاہور کے شائقین کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ کراچی اور دوسرے شہروں کے اسٹیج ڈرامے بھی دیکھ سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||