میلے میں وقفہ نماز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی دورا افتادہ ضلع چترال میں مذہبی عناصر کے اعتراضات کی وجہ سے’ جشن چترال‘ تو نہ ہوسکا البتہ اس کی جگہ اب ’میلہ چترال‘ منعقد کیا جائے گا۔ اس میلے میں نہ ڈھول ہوگا اور نہ رات کو کوئی پروگرام، تاہم نماز کے لیے باقاعدہ وقفہ ہوا کرئے گا۔ ضلع چترال میں اس ماہ کی پندرہ تاریخ سے جشن چترال کے نام سے تہوار مذہبی جماعتوں کے اعتراضات کی وجہ سے تو شروع نہ ہو سکا لیکن اب مقامی حکام اور مذہبی رہنماؤں نے مل کر اس کی جگہ میلہ چترال کے نام سے تہوار منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی ڈی سی او کے دفتر میں ہونے والے اس اجلاس میں چترال سے رکن قومی اسمبلی عبدالکبر خان، امیر جماعت اسلامی مولانا شبیر عزیز اور چترال میں سیاحت کے فروغ کی تنظیم کماٹ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ میلے کے دوران کوئی غیرشرعی کام نہیں ہوگا۔ ہر اذان کے بعد نماز کے لیے وقفہ ہوگا جبکہ اذان مغرب سے آدھ گھنٹہ قبل میلہ دن کے لیے اختتام پذیر ہوگا اور رات کو کوئی مصروفیت نہیں رکھی جائے گی۔ کھیل کے مقابلوں کے لیے بھی مخصوص وقت کا تعین کیا گیا اور ان کھیلوں کے دوران ڈھول تاشے نہیں بجائے جائیں گے۔ ایک اور فیصلے کے مطابق یہ میلہ چترال ایسوی ایشن فار ماؤنٹین ایریا ٹورزم کے تحت نہیں بلکہ ضلعی حکومت کے زیر انتظام چلایا جائے گا۔ جشن چترال منانے کا سلسلہ کئی برسوں کے تعطل کے بعد گزشتہ برس دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ لیکن مذہبی جماعتوں کی طرف سے شراب نوشی اور غیر شرعی حرکتوں کے الزامات کے بعد یہ جشن متنازعہ بن گیا تھا۔ اس جشن کے لیے ملک اور بیرون ملک سے سیاحوں کو متوجہ کرنے کی خاطر اخبارات میں اشتہارات کی مہم بھی چلائی گئی تھی لیکن اب معلوم نہیں کہ ان تازہ پابندیوں کے ساتھ یہ سیاحوں کو کتنا بھاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||