چترالی خواتین خود کشی پر مائل؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دور افتادہ پہاڑی ضلع چترال میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس سال عورتوں میں خودکشی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک نو عورتیں اپنی جان لے چکی ہیں۔ پہاڑی ضلع چترال میں عورتوں کی جانب سے خودکشی کے غیرمعمولی واقعات پر سب حیران ہیں۔ تازہ واقعہ چترال کے مستوج علاقے میں گاؤں ریشون میں پیش آیا ہے جہاں پولیس کے مطابق پینتالیس سالہ سرفراز بیگم نے دریا چترال میں چھلانگ لگا کر جان دے دی۔ خاتون کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ ان کی لاش آخری اطلاعات تک نہیں برآمد ہوسکی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ اس ایک سال میں ضلع چترال میں یہ اپنی نوعیت کا نواں واقعہ ہے۔ پولیس ان واقعات کی مختلف وجوہات بتاتی ہے جن میں گھریلو ناچاقی سر فہرست ہے۔ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ان غیرمعمولی واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے البتہ چترال کے ناظم شہزادہ محی الدین کا کہنا ہے کہ یہ معمول کے واقعات ہیں اور تشویش کی کوئی بات نہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی عورت گھریلو ناچاقی کی وجہ سے دریا میں کود کر جان دیتی ہے تو اس کا کیا علاج ہے۔ اس سے قبل جولائی کے مہینے میں موری گاؤں کی ایک تعلیم یافتہ شادی شدہ خاتون نے اپنے آپ کو دریا چترال کی تیز و تند لہروں کی نظر کر دیا تھا۔ اسی ماہ میں دو اور خواتین نے بھی خودکشی سے جان لے لی تھی۔ ایک ماہ قبل گھوخیر گاؤں کی تین عورتوں نے خودکشی کی تھی۔ ان واقعات کے بارے میں اصل حقائق جاننے کے لیے بظاہر ابھی کوئی سروے یا جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||