BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیلاش میں تہذیبی تبدیلیاں

کیلاش بچے
کیلاش بچے
پاکستان کے شمالی ضلع چترال میں واقع کافرستان کے باسیوں کا سالانہ مذہبی اور ثقافتی میلہ تو اتوار کے روز ختم ہوا لیکن اس سہ روزہ تہوار نے یہاں آئے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اور اہم سوال دنیا کی سب سے منفرد اور قدیم کیلاش ثقافت کے مستقبل کے بارے میں ہے۔

کیلاش سے قلاش ہونے کا ایک عمل شروع ہو چکا ہے اور ماہرین کے مطابق اگر مناسب ’عقلمندانہ‘ اقدامات نہ کئے گئے تو اس تہذیب کا تاریخ کی کتابوں تک ہی محدود ہو جانے کا خدشہ ہے۔

وادی کیلاش میں مقامی باشندوں کی، جو کافر کے نام سے جانے جاتے ہیں، تعداد حال ہی میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق سات سے کم ہو کر چار ہزار تک آ گئی ہے البتہ یہاں مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو سولہ ہزار سے بڑھ کر انیس ہزار ہوگئی ہے۔ اس صورت حال سے سے حالات و واقعات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، رجحانات کا پتہ ملتا ہے اور ہنگامی عملی اقدامات کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔

مبصرین کے مطابق کیلاش کے لوگوں کو احساس کمتری جیسی کوئی بیماری لاحق ہو چکی ہے۔ وہ بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان کے دیگر علاقوں کا رنگ اپنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پاکستانی لباس انہیں بھانے لگا ہے اور اس کی ایک مثال ان کے بدلتے نام ہیں۔ مسلمان نہ ہوتے ہوئے بھی وہ مردوں کے لئے احمد، یاسر، شہزاد اور انیس جیسے جبکہ خواتین کے لئے رحیما، شائستہ اور عائشہ جیسے نام رکھنے لگے ہیں۔

چترال کے استاد، دانشور اور تاریخ دان ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کا کہنا ہے کہ اس سے قبل یہ لوگ مقامی کیلاشہ زبان میں تتلیوں، پھولوں وغیرہ کی مناسبت سے نام رکھا کرتے تھے۔ ’یہ بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ بات اس ثقافت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔‘

کیلاش لوگ
کیلاش بچے

دوسری بڑی خرابی امداد دینے والوں نے ڈالی۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے ایک ہی کیلاش خاندان کے دو تین افراد کو امداد دینے کی غرض سے الگ الگ غیرسرکاری تنظیمیں شروع کرنے کا مشورہ دیا اور اس طرح کیلاش کے لوگوں میں ترقیاتی کاموں کے لئے بھی اختلافات اور دوریاں پیدا ہونے لگیں۔ اس کی ایک اور مثال ماضی میں افغان پناہ گزینوںسے ملتی ہے جنہیں امداد کے چکر میں کئی جماعتوں اور ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

کیلاش میں بھی اب تقریباً یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے اس لئے بھی خلاف ہیں کہ ان کے خیال میں ہم قبیلہ لوگوں نے ان کے نام پر امداد لی اور اپنے سوا کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا۔ کیلاش لوگوں کے کئی نمائندے ابھرے لیکن جلد ہی متنازعہ ہوگئے۔

کئی غیرملکی تنظیموں نے اب کیلاش کے نوجوانوں کو تعلیم کی غرض سے پاکستان اور بیرون ملک کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے داخل کیا جن سے انہیں تعلیم تو ملی لیکن ان کی سوچ تبدیل ہوتی گئی۔ اس لئے اب یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے پسماندہ علاقوں میں واپس آ کر ترقی کے لئے کوئی مثبت کام کریں گے۔

علاقے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ان غیرمسلموں کو مسلمان یا عیسائی بنانے کا بھی مقابلہ جاری ہے۔ اسلامی مذہبی تنظیمیں اور عیسائی مشنری اس چھوٹے سے علاقے میں کئی دہائیوں سے سرگرم نظر آتے ہیں۔ بمبوریت میں داخل ہونے پر یا تو بےشمار ہوٹل نظر آتے ہیں یا پھر مدرسے۔ کئی کالعدم مذہبی تنظیمیں یہاں کے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے پر تلی ہیں۔

کیلاش لوگ
کیلاش لوگ

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کا کہنا ہے کہ مذہبی سطح پر ان لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے قیام پاکستان سے پہلے سے ہی کام جاری ہے۔ ’ماضی میں مقامی مسلمان حکمرانوں نے لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ یا تو وہ مسلمان ہو جائیں یا مرنے کے لئے تیار۔‘

اس کے علاوہ کیلاش معاشرے میں عورت کے ساتھ کیا جانے والا سلوک بھی قابلِ افسوس ہے۔ کیلاش ثقافت کا مشاہدہ کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم کے طاہر رشید کا کہنا تھا کہ عورتوں کو مخصوص ایام اور زچگی کے دوران کئی کئی ہفتوں کے لئے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔’انہیں ناپاک مانا جاتا ہے۔ انہیں کسی چیز یا انسان کو چھونے تک کی اجازت نہیں ہوتی۔ انہیں ان ایام میں ایک مخصوص مکان میں، جسے بخشالی کہتے ہیں، رکھا جاتا ہے۔‘

طاہر رشید کا کہنا ہے کہ اگر یہ لوگ مسلمان ہوتے اور خواتین سے ایسا سلوک کرتے تو مغربی ممالک، ان کا ذرائع ابلاغ اور حقوق انسانی کی تنظیمیں اسے وحشیانہ قرار دے کر انہیں تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتیں۔ ’چونکہ وہ مسلمان نہیں اس لئے انہیں یہ روایات برقرار رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انہیں ایسا کرنے کے لئے اچھے بخشالی تعمیر کر کے دیے جا رہے ہیں۔‘

کیلاش کے لوگ سخت کشمکش میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے رسم و رواج کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ خود کو اردگرد کے بدلتے ہوئے حالات سے کیسے محفوظ رکھیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ترقی بھت کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اپنی تہذیب و تمدن کو کیسے قائم رکھیں۔ یہ لوگ تعلیم یافتہ بھی نہیں اس لئےانہیں غربت سب کچھ چھوڑنے پر اکساتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر عنایت کا کہنا ہے کہ اگر قبائلی علاقوں کے لوگ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے رسم و رواج کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں تو کیلاش کے لوگ ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔

لیکن اس کے لئے حکومت کو ان لوگوں کو اپنی ثقافت برقرار رکھنے کے لئے شعور دینا ہوگا اور کچھ قانون سازی کرنی ہوگی۔ یہ ثقافت ختم ہو رہی ہے، اسے بچانا انتہائی ضروری ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد